13

کورونا کے باعث گھروں میں محصور پاکستانی ”پی ٹی سی

کورونا کے باعث گھروں میں محصور پاکستانی ”پی ٹی سی ایل“ کو دہائیاں دینے لگے، …

لاہور (کامران اکرم) کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں اور ہزاروں اموات ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاﺅن کیا جا چکا ہے اور گھروں میں محصور افراد کے پاس تفریح و معلومات کے حصول کا واحد ذریعہ انٹرنیٹ ہے۔

کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اکثر ملازمت پیشہ افراد کو ”ورک فرام ہوم“ کی سہولت مہیا کی جا چکی ہے جبکہ سکول، کالجز اور یونیورسٹیوں میں چھٹیوں کے باعث طلباءو طالبات بھی آن لائن کلاسز لینے میں مصروف ہیں لیکن پاکستان ٹیلی کمیونیکشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کا انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد تفریح، معلومات اور حصول تعلیم سے بھی محروم ہیں جنہیں انٹرنیٹ میں شدید مسائل کا سامنا ہے اور شکایات درج کرانے کے باوجود بھی کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا بلکہ کوئی کام کئے بغیر ہی صارفین کی شکایات کو ختم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی سی ایل کی ہیلپ لائن1218 پر فون کرنے کی صورت میں شکایت تو درج کر لی جاتی ہے مگر کوئی فون آتا ہے اور نہ ہی کمپنی کا کوئی نمائندہ شکایت کنندہ کو وزٹ کرتا ہے لیکن ایک سے دو روز بعد تصدیقی ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے کہ آپ کی شکایت درست کر دی گئی ہے لیکن راﺅٹر کی جلتی بجھتی ’بتیاں‘ بدستور صارف کا منہ چڑاتی نظر آتی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ شکایت کنندگان کا مسئلہ حل ہو یا نہ ہو، انہیں بل کی ادائیگی سے متعلق دن میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ ایس ایم ایس کے ذریعے بل جمع کرانے کی یاددہانی ضرور کروا دی جاتی ہے اور موذی وباءکیخلاف برسرپیکار پاکستانیوں کو اب بھی پورے بل بھیجے جا رہے ہیں جس پر صارفین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، صارفین کا موقف ہے کہ جب انٹرنیٹ چل ہی نہیں رہا تو بل کیوں ادا کریں؟

پی ٹی سی ایل نے ہیلپ لائن کے ذریعے شکایت حل نہ ہونے کی صورت میں ایک ای میل سروس care@ptcl.net.pk بھی متعارف کرا رکھی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کی آڑ میں بھی صارفین کا استحصال جاری ہے اور کسی طرح کی بھی شنوائی نہیں ہو رہی جس کا اندازہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پی ٹی سی ایل کے ہیش ٹیگ کو سرچ کر کے بخوبی کیا جا سکتا ہے جس کی ایک جھلک ذیل میں دئیے گئے پیغامات میں دیکھی جا سکتی ہے۔

گھمن نامی ایک صارف پی ٹی سی ایل کے انٹرنیٹ سے اس قدر زچ نظر آیا کہ اس نے صرف دو الفاظ میں ہی اپنے دل کی بات کہہ دی اور لکھا ”بھاڑ میں جاﺅ پی ٹی سی ایل“

مصور نامی صارف کو آن لائن کلاسز میں خاصی مشکل پیش آئی جس کے بعد انہوں نے دلچسپ انداز میں پی ٹی سی ایل کے انٹرنیٹ کی کارستانی بیان کی اور لکھا ”آن لائن کلاسز کیخلاف پی ٹی سی ایل ہمارا وکیل ہے“

میاں ضیاءالحق نے لکھا ”انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر صرف ایک منٹ کی ویڈیو 8 ایم بی پی ایس کنکشن کے ذریعے 10 منٹ میں اپ لوڈ ہوئی، اتنا گھٹیا انٹرنیٹ چل رہا ہے“

حارث ملک نے لکھا ”یار یہ پی ٹی سی ایل کا انٹرنیٹ بھی ناں یار۔۔۔ 4 ایم بی پی ایس کا پیکیج ہے اور سپیڈ صرف 100 کے بی مل رہی ہے وہ بھی مشکل سے“

محمد شعیب نے لکھا ”جس کا کوئی نہیں ہوتا، ان کا پی ٹی سی ایل ہوتا ہے اور میں ان بدنصیب میں سے ایک ہوں“

ثمین خان نے لکھا ”پی ٹی سی ایل کو کیا موت پڑی ہے“

عمیر نے لکھا ”کورونا وائرس کی وباءکے دوران سب نے انٹرنیٹ پیکیجز کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے لیکن پی ٹی سی ایل نے انٹرنیٹ لوڈشیڈنگ شروع کر دی ہے“

جیدی نامی صارف نے لکھا ”پورے کا پورا بل موصول ہوا، شکریہ پی ٹی سی ایل“

سریش کمار نے لکھا ” پاکستان کا سب سے بدترین نیٹ ورک پی ٹی سی ایل ہے“

عبداللہ قمر نے لکھا ”پی ٹی سی ایل کا انٹرنیٹ استعمال کرنا بھی عجیب سزا ہے۔۔۔ پتہ نہیں یہ ادارہ ابھی تک قائم کیوں ہے“

رانا حامد نے لکھا ”قرنطینہ کے دنوں میں بندہ پی ٹی سی ایل کو دھمکی بھی نہیں لگا سکتا کہ اتار کر لے جاﺅ اپنا گھٹیا انٹرنیٹ“

رانا حامد نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ”پی ٹی سی ایل کا انٹرنیٹ ہونا یا نہ ہونا ایک ہی بات ہے“

زینب راﺅ نے لکھا ”ہوا چلتی ہے انٹرنیٹ سست ہو جاتا ہے، بارش ہوتی ہے انٹرنیٹ چلا جاتا ہے“

ناصر اقبال نے اپنے پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ کنکشن پر لئے گئے سپیڈ ٹیسٹ کے چند سکرین شاٹس شیئر کئے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں