Software technology 84

اسلام آباد میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ذیلی ادارے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے تحت اسلام آباد میں فضل سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کردیا گیا ہے۔ فضل سافٹ ویر ٹیکنالوجی پارک سرکاری اور نجی شعبے کے تعاون کی ایک عمدہ مثال ہے جہاں 40،000 مربع فٹ جگہ پر 10 آئی ٹی کمپنیوں نے اپنی خدمات کی فراہمی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ جبکہ تین ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرے سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح ہے۔ اس سے قبل اسپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن کے اشتراک سے قائم کردہ گلگت آئی ٹی پارک کا افتتاح گذشتہ سال اکتوبر چیف آSoftware technologyف آرمی اسٹاف نے کیا تھا ۔
افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی سیکرٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی تھے جبکہ تقریب میں صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، وزارت آئی ٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے سینئر عہدیداران شریک تھے۔

اس اہم تقریب کیلئے اپنے خصوصی بیان میں وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکشن سید امین الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت میں پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کو اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے، اور ہماری کوشش ہے کہ اس شعبے کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مجموعی معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے کی ترقی اور فروغ کیلئے اس صنعت سے منسلک کمپنیوں اور ماہرین کوانتہائی پرکشش مراعات فراہم کی جارہی ہیں اس ضمن میں متعدد منصوبے ہیں جن کا مقصد آئی ٹی انڈسٹری کو اس کی نمو میں مدد اور مدد فراہم کرنا اور مقامی اور برآمدی آمدنی میں مسلسل اضافے کی رفتار کو یقینی بنانا ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی کے مطابق حکومت درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کے لیئے مقامی صنعت کے فروغ کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے اسی سلسلے میں خصوصی اقتصادی زون اور خصوصی ٹیکنالوجی زون کے قیام کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے انھوں نے کہا کہ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کیلئے ، وزارت آئی ٹی نے پرکشش مراعات کا آغاز کیا ہے جس میں انکم ٹیکس ، پراپرٹی ٹیکس ، دیگر ٹیکسوں اور کسٹم ڈیوٹیوں سے 10 سال کی چھوٹ شامل ہے۔ اسی طرح ان زونز کی حدود میں خدمات پر 10 سال کیلئے جنرل سیلز ٹیکس سمیت منافع پر دیگر ٹیکسز میں چھوٹ دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر سید امین الحق نے کہا کہ “پاکستانی عوام اس حقیقت پر فخر کرسکتے ہیں کہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کو مصنوعات اور خدمات مہیا کررہی ہیں۔ جدید ترین ٹکنالوجی جیسے اےآئی ، روبوٹکس اور ڈرائیور لیس کاروں پر اسٹیٹ آف دی آرٹ ورک کا انعقاد پاکستان میں کیا جارہا ہے اور امریکی کمپنیوں سمیت بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے پاکستان میں ریسرچ اینڈ ڈٖویلپمنٹ سنٹرز قائم کیے ہیں۔
سید امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ ، آئی ٹی انڈسٹری کی عروج کی وجہ سے ملک میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کی شدید مانگ ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ آپ کے منصوبے پائیدار اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ اس میں نجی شعبوں کو مراعات بھی دی جائیں کہ وہ آگے آئیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کریں آج کی یہ تقریب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

تقریب سے اپنے خصوصی خطاب میں سیکرٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ وفاقی وزیر سید امین الحق کی ہدایت پر ہم نے آئی ٹی کے شعبے کی تعمیرو ترقی اور معیشت میں اس کی نمایاں حصہ داری کیلئے جارحانہ انداز اختیار کیا ہے وزارت آئی ٹی اوراس کے ماتحت اداروں کے ایک کے بعد ایک منصوبے اور پراجیکٹس کی تیزی سے تکمیل اس کی روشن مثال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تک غیر استعمال شدہ عمارتوں کو جدید ترین سافٹ ویئر پارکس میں تبدیل کرنے کا تعلق ہے تو مزید اچھی خبریں آرہی ہیں۔ جامعات میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کے قیام کی راہ میں کام تیزی سے جاری ہے۔
شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کے پیشہ ور اور کاروباری افراد جو پاکستان کی آئی سی ٹی انڈسٹری کو ملک کے لئے کامیابی کی تاریخ بنارہے ہیں ، انہوں نے ترسیلات زر کی مد میں بے مثال شرح نمو حاصل کی ہے اور اسے پاکستان سے آئی ٹی خدمات کے شعبے کو بڑا برآمد کنندہ بنادیا ہے۔ انہوں نے آئی ٹی انڈسٹری اور عوامی شعبے کے اداروں کے مابین قریبی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی مجموعی ترقی کو یقینی بنائے۔

پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر ، عثمان ناصر نے اپنے استقابلیہ خطاب میں کہا کہ ملک کے ترقی پذیر علاقوں میں آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کے لئے آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس کمپنیوں کے لئے پی ایس ای بی رجسٹریشن فیس بشمول ملک کے ترقی پذیر علاقوں سے تعلق رکھنے والے کال سینٹرز اور آئی ٹی اسٹارٹ اپس کیلئے مکمل طور پر معاف کردی گئی ہے۔ یہ عمل پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کیلئے نہایت خوش آئند ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گلگت ایس ٹی پی کی کامیابی اپنی مثال آپ بنتی جارہی ہے ابتدائی طور پر اس آئی ٹی پارکس سے 73 آئی ٹی پیشہ افراد نے اپنے کام کا آغاز کیا جنہوں نے خواتین سمیت آئی ٹی گریجویٹس کو مزید تربیت اور سرپرستی فراہم کی ، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 150 آئی ٹی پروفیشنلز نے گلگت میں آئی ٹی انڈسٹری کی نمایاں توسیع میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اسے ایک مثالی پارک بنادیا ہے۔ گلگت کی کامیابی کی بہت سی کہانیوں میں “شی ڈیو” نامی کمپنی بھی ہے جو ایک 17 رکنی خواتین کمپنی ہے جو مقامی اور بین الاقوامی صارفین کو ٹیکنالکوجیکل سہولیات اور اس کی سروسز فراہم کرتی ہے۔