34

بینو قادرٹرافی کا فیصلہ ہوگیا،مہمان ٹیم فاتح قرار

آسٹریلیا نے پاکستان کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میچ میں 115 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز ایک صفر سے جیت لی ۔ آسٹریلیا نے بینو قادر ٹرافی بھی اپنے نام کرلی۔

 آسٹريليا نے چوتھے دن اپنی دوسری اننگز 227 رنز 3 کھلاڑی آوٹ پر ڈیکليئر کردی تھی۔پاکستان نے 351 رنز کے ہدف کا پراعتماد آغاز کیا تھا اور چوتھے دن کا کھیل ختم ہونے تک بغیر کسی نقصان کے 73 رنز بنالئے تھے،پاکستانی اوپنر عبداللہ شفیق 27 اور امام الحق 42 رنز کے ساتھ آخری روز اپنی اننگز کا دوبارہ آغاز کیا۔پاکستان کی ٹیم نے آخری روز جب کھیل شروع کیا تو اس کو جیت کے لیے 278 رنز درکار تھے۔

عبداللہ شفیق 27 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔اظہر علی 17 رنز بنا کر تھرڈ ایمپائر کے متنازع فیصلے کا شکار ہوئے۔ امام الحق 70 رنز بناسکے۔فوادعالم نے صرف 11 رنز اسکور کئے۔

محمد رضوان ناکام ہوئے اور صفر پرآؤٹ ہوئے۔بابر اعظم نے 55 رنزبنائے۔ساجد خان نے 21 رنز اسکورکئے۔حسن علی  نے 13 رنز بنائے۔ شاہین آفریدی نے 5 رنز اسکور کئے۔ نسیم شاہ ایک رن پر آؤٹ ہوئے۔آسٹریلیا کی جانب سے نیتھن لائن نے5 وکٹ حاصل کئے۔پیٹ کمنز نے 3 وکٹ لئے۔

پیٹ کمنز کو مین آف دی میچ اور عثمان خواجہ کو مین آف دی سیریز کا ایوارڈ دیا گیا۔

عثمان خواجہ نے میچ کے بعد بتایا کہ پاکستان میں کھیل کر بہت مزہ آیا، پاکستان میں مداحوں کے شکر گزار ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بھرپورخیرمقدم ملا۔ انھوں نے لاہور ٹیسٹ میچ جیتنے کو بہترین لمحہ قرار دیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کو اندازہ تھا کہ پاکستان کی ٹیم 4 سیشنزمیں 350 کا ہدف حاصل نہیں کرسکے گی۔ انھوں نے اپنی سنچری کو بھی بہترین اننگز قرار دیا۔

پیٹ کمنز نے کہا کہ پہلی اننگز میں جس طرح آسٹریلیا نے بیٹنگ کی اور اسکور آگے بڑھایا وہ ایک بہترین لمحہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان 350 رنز کے ہدف کے لیے اچھی بیٹنگ کرتا تو یہ حاصل کیا جاسکتا تھا تاہم یہ سوچا تھا کہ اگر آسٹریلیا نے اچھی بالنگ کی تو میزبان ٹیم کے لیے دشوار ہوجائے گا۔ انھوں نے پاکستان میں کھیلنے کو بہترین تجربہ قرار دیا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے دو ٹیسٹ میچ ڈرا ہوگئے تھے۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں