محمد احسن یونس01 62

مقدمات کی معیاری تفتیش اور تھانوں میں بہتری کے لئے آئندہ10روز میں نئی ایس او پی نافذ کر دی جائے گی

راولپنڈی :سٹی پولیس آفیسرڈی آئی جی محمد احسن یونس نے کہا ہے کہ مقدمات کی معیاری تفتیش اور تھانوں میں بہتری کے لئے آئندہ10روز میں نئی ایس او پی نافذ کر دی جائے گی سب کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے میرٹ اور انصاف کی بالا دستی کے لئے سیاسی دباؤ قبول کیا جائے گا اورنہ اب کوئی ایس ایچ او سفارش پر تعینات ہوگا جرائم کے سد باب کے لئے تمام تھانوں کو 3 کیٹیگریوں میں تقسیم کر کے جرائم کی شرح کے حساب سے وسائل مہیا کئے جائیں گے سی پی اوہاؤس سمیت تمام افسران کے دفاتر اور گھروں سے درجہ چہارم کے اضافی ملازمین ہٹا کر تھانوں میں تعینات کر دیئے گئے ہیں گزشتہ3دن میں زیر التوا سنگین نوعیت کے مقدمات پر1057ایف آئی آرز درج کر لی گئی ہیں میری اولین ترجیح پولیس کو پروفیشنل بنا کر عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے میڈیا ہر قدم پر ہماری رہنمائی کرے اور کسی اہلکار کی ایک غلطی پر ہمارے 100اچھے کاموں کو نظر انداز کرنے کی بجائے اچھے کاموں میں ہماری حوصلہ افزائی کرے، ان خیالات کا اظہارانہوں نے بطور سی پی او تعیناتی کے بعدجمعرات کے روز پولیس لائنز راولپنڈی میں پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا تعیناتی کے بعد اپنی3روزہ کارکردگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ زیر التواء سنگین نوعیت کے مقدمات پر1057ایف آئی آرز درج کی گئیں جن میں مسلح ڈکیتی کی6،رابری کی159،موٹر سائیکل چھیننے کی22، 382ت پ کے 27،موٹر سائیکل چوری کی359،گاڑی چھیننے کی 3اور گاڑی چور ی کی 53ایف آئی آرز کے علاوہ پرس چھیننے کی165،نقب زنی کی 83،چوری158اورمویشی چوری کی22ایف آئی آرز شامل ہیں انہوں نے کہا کہ بڑا اور اہم شہر ہونے کے ناطے راولپنڈی میں مسائل زیادہ ہیں تاہم جرائم کے سد باب کے لئے پہلا قدم ایف آئی آر زکا اندراج ہے جس سے کرائم پاکٹس پر فوکس کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ اب کرائم کی شرح چھپا کر کارکردگی ظاہر نہیں کی جائے گی اللہ نے مجھے موقع دیا ہے تو کام کر کے دکھائیں گے انہوں نے کہا کہ چارج سنبھالنے کے بعد ریسکیو15سے گزشتہ3ماہ کا ڈیٹاحاصل کیا گیا ہے جس کے جائزے کے دوران کمرشل مارکیٹ، دبئی پلازہ اور ہولی فیملی ہسپتال کاعلاقہ جرائم کاگڑھ ہیں شہر کی تمام کرائم پاکٹس کی نشاندہی کر کے ان پر فوکس کیا جائے گا اب نہ صرف راولپنڈی میں میرٹ پر مقدمات درج ہوں گے بلکہ ملزمان کی گرفتاری اور مال مسروقہ کی برآمدگی بھی ہو گی قانون کی حکمرانی کے لئے چھوٹے نہیں بڑے بدمعاش اور منشیات کے عادی نہیں بلکہ منشیات فروش گرفتار کئے جائیں گے ضلع بھر میں اب پولیس کوئی ایسا کام نہیں کرے گی جس کی وجہ سے ہمیں جھوٹ در جھوٹ بولنا پڑ ے پولیس قومی رضاکاران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پولیس ناکوں اور تھانوں کے اندر یہ رضا کار کرپشن اور رشوت کا بڑا ذریعہ بن چکے ہیں جن پر مکمل نظر ثانی کر کے شفاف پالیسی اپنائی جائے گی انہوں نے کہا کہ جرائم کے سد باب کے لئے راولپنڈی کے تمام تھانوں کو اے، بی اور سی کیٹیگری میں تقسیم کیا جا رہا ہے ہر تھانے میں جرائم کی شرح کے حساب سے تھانے کو وسائل دیئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ یہ امر حیران کن ہے کہ ضلع کے30میں سے صرف6تھانوں میں خاکروب کی سہولت موجود ہے درجہ چہارم ملازمین کی نفری کی کمی پوری کرنے کے لئے سب سے پہلے سی پی او آفس اور سی پی اوہاؤس سے اضافی ملازمین ہٹا دیئے گئے ہیں اور18تھانوں میں ملازمین تعینات کر دیئے گئے ہیں جلد تمام تھانوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی انہوں نے کہا کہ میری تمام تر توجہ سی پی او ہاؤس اور آفس سمیت افسران کے دفاتر نہیں بلکہ اصل فوکس تھانوں پر ہے انہوں نے کہا کہ انوسٹی گیشن کے معیار کو بہتر کیا جائے معیاری انوسٹی گیشن اور تھانوں میں بہتری کے لئے آئندہ10روز میں نئی ایس او پی جاری کی جائے گی مقدمات کے اندراج کے ساتھ مدعی کو پبلک ایڈوائزری بھی دی جائے گی کس بھی تھانے میں جھوٹی یا سچی ایف آئی آر کے اندراج کے لئے متعلقہ ایس ایچ او جوابدہ ہو گا شہر سمیت ضلع بھر میں چھاپوں کے لئے مکمل ضابطہ بنائیں گے محکمانہ احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا جس افسر یا اہلکار کو شوکاز جاری ہو گا وہ یہ سمجھ لے کہ معاملہ خراب ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی کیس کی انوسٹی گیشن اور پوسٹمارٹم اخراجات کے لئے بھی پالیسی وضع کر رہے ہیں پوسٹمارٹم اخراجات اور سامان کی خریداری کے لئے متعلقہ ہسپتالوں کے باہر میڈیکل سٹور نامزد کئے جائیں گے جنہیں باقاعدہ ٹینڈر جاری کئے جائیں گے جہاں سے متعلقہ تفتیشی کو سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، کوشش کی جائے گی کسی بھی تفتیشی پر اخراجات کا بوجھ لادنے کی بجائے لاگت کا درست استعمال کیا جائے، انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کی اہمیت سے پوری طرح واقف ہوں اور خواہش ہو گی کہ میڈیا ہر قدم پر ہماری رہنمائی کرے اور کسی اہلکار کی ایک غلطی پر ہمارے 100اچھے کاموں کو نظر انداز کرنے کی بجائے اچھے کاموں میں ہماری حوصلہ افزائی کرے، انہوں نے کہا کہ میری اولین ترجیح پولیس کو پروفیشنل بنا کر عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے انہوں نے کہا کہ میری تعیناتی کسی سیاسی سفارش پر نہیں ہو ئی اس لئے کوشش ہو گی کہ سب کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے میرٹ اور انصاف کی بالا دستی کے لئے کسی سیاسی دباؤ کوقبول نہ کیا جائے اب کوئی ایس ایچ او بھی سفارش پر تعینات نہیں ہوگا کیونکہ یہ بات طے ہے کہ میں ظلم اور ظالم کا ساتھی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں