پنجاب_پولیس_پاکستان_لوگو 50

مری روڈ پر ڈکیتی کی واردات اور اس کے بعد پولیس اہلکار کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو

راولپنڈی: مری روڈ پر ڈکیتی کی واردات اور اس کے بعد پولیس اہلکار کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی خبر سوشل میڈیا پر آنے کے بعد سی پی او کا سخت ایکشن،واردات کا مقدمہ درج،اہلکار کی شناخت کے لئے ایس ایس پی کو انکوائری کا حکم،ایک گھنٹہ میں اہلکار کی شناخت ہو گئی جس کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سخت محکمانہ احتساب کا حکم،تفصیلات کے مطابق مری روڈ پر تھانہ نیو ٹاؤن کے علاقہ میں ڈکیتی کی واردات اور اس کے بعد پولیس اہلکار کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی بات سوشل میڈیا پر آنے کے بعد سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے وقوعہ کا مقدمہ تھانہ نیو ٹاؤن میں درج کرنے کا حکم دے دیا،سی پی او نے ایس ایس پی آپریشن طارق ولائت کو فوری انکوائری کا حکم دیا،سی پی او نے کہا کہ مجھے ایک گھنٹہ میں پولیس اہلکار کا پتہ چلنا چاہیے جو وردی پہن کر غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرتا ہے،سی پی او کے حکم پر وقوعہ کا مقدمہ تھانہ نیو ٹاؤن میں درج کر لیا گیا جبکہ ایس ایس پی آپریشن طارق ولائت نے شواہد کی روشنی میں انکوائری کر کے پولیس اہلکار کی شناخت کر لی جو اے ایس آئی اظہر گوندل نکلا،ایس ایس پی آپریشنز نے سی پی او کو رپورٹ دی سی پی او نے اے ایس آئی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین محکمانہ احتساب کا حکم دیا،سوشل میڈیا پر یہ خبر پنڈی کے ذمہ دار صحافتی حلقے کی طرف سے دی گئی جس پر سی پی او نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی کا میرٹ پرست اور پروفیشنل میڈیا ہمیشہ سے پنڈی پولیس کی راہنمائی کر رہا ہے راولپنڈی پولیس کی جس کارکردگی کا اعتراف عوامی سطح پر کیا جارہا ہے اس میں یہاں کے میڈیا کی جرائم کے خلاف نشان دہی کا بڑا ہاتھ ہے،سی پی او نے کہا کہ جرم کبھی چھپانے سے ختم نہیں ہوتا،جو پولیس اہلکار جرم چھپاتے ہیں وہ ایک لحاظ سے بالواسطہ طور پر قانون شکنوں کے سہولت کار بن جاتے ہیں جرم ہمیشہ ٹریس کرنے اور ملزمان کی گرفتاری سے ختم ہوتا ہے،پنڈی پولیس کو جرم چھپانے نہیں دوں گا،پنڈی پولیس کو جرم تلاش کرنا ہو گا،ملزمان گرفتار کرنا ہوں گے،سی پی او نے کہا کہ ایس پی راول جدید سائنسی ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر اس واردات سمیت اپنے ڈویژن میں ہونے والی تمام سنگین وارداتوں کو فوری طور پر ٹریس کریں،ڈکیتی سمیت کسی قسم کی سنگین واردات قابل قبول و برداشت نہیں،سی پی او نے کہا کہ جو پولیس اہلکار اور افسران جائے وقوعہ پر پہنچیں انہیں اپنی حرکات و سکنات اور گفتگو کو انتہائی ذمہ دارانہ رکھنا ہو گا،قانون سب سے بڑا طاقتور ہے جس نے پولیس کو وہ طاقت دی ہے جس کے مثبت استعمال سے ہم نے معاشرے کے تمام قانون شکنوں کو قانون کی لگام دینا ہے،ادھر سوشل میڈیا پراس حوالے سے سی پی او کی پذیرائی کی گئی کہ واردات کا مقدمہ درج ہوا جبکہ ریکارڈ وقت میں انکوائری کر کے غیر ذمہ دار گفتگو کرنے والے پولیس اہلکار کی شناخت بھی کر لی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں