.ڈینگی 68

راولپنڈی میں جان لیوا ڈینگی مچھر کی وبا کے بعد شہر بھر میں آوارہ کتوں کی یلغار نے شہریوں کو نئے خوف میں مبتلا کر دیا

راولپنڈی میں جان لیوا ڈینگی مچھر کی وبا کے بعد شہر بھر میں آوارہ کتوں کی یلغار نے شہریوں کو نئے خوف میں مبتلا کر دیا میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کا ”کتے مار سکوارڈ“گزشتہ5سال سے مکمل غیر فعال ہو نے کتوں کی افزائش میں ہوشربا اضافے سے گلی محلوں کے علاوہ راولپنڈی کے سرکاری دفاتر کے باہر بھی کتوں کے غول خوف و دہشت کی علامت بن گئے راولپنڈی کے تینوں الائیڈ ہسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین موجودنہ ہونے کے باعث خوفناک سانحات کے امکانات بڑھ گئے جبکہ کتے کے کاٹنے سے متاثرہ بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے والدین شدید خوف کا شکار ہو گئے شہر کے بیشتر سرکاری ادروں اور سرکاری رہائشگاہوں کی انتظامیہ نے املاک کی حفاظت کے لئے سکیورٹی گارڈزکی تعداد کم کر کے آوارہ کتوں کی خدمات حاصل کر لیں جس سے شہریوں کا سرکاری دفاتر میں داخل ہونا ناممکن ہو گیا شہریوں کی جانب سے بار ہا شکایات کے باوجود متعلقہ اداروں نے آوارہ کتے تلف کرنے کی ذمہ داری ایکدوسرے پر ڈالنا شروع کر دی تفصیلات کے مطابق اس وقت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس،میونسپل کارپوریشن، البائراک، پی ایچ اے واسا آر ڈی اے سمیت مختلف سرکاری اداروں کے باہر آوارہ کتوں کے غول در غول موجود ہونے سے شہریوں کا مفاد عامہ کے ان اداروں سے رابطہ کٹ کر رہ گیا ہے اس ضمن میں شہریوں کی جانب سے توجہ دلانے پر بیشتر اداروں کے افسران یا سکیورٹی گارڈزبرملا اس بات کا اقرار کرتے ہیں یہ کتے اداروں کی سکیورٹی میں موثر کردار ادا کرتے ہیں جس سے سکیورٹی گارڈز کی تنخواہوں کی مد میں بھی واضح بچت ہوتی ہے اسی طرح شہر کی تمام یونین کونسلوں میں آوارہ کتوں کی یلغار نے شہریوں کو گھروں تک محدود کر رکھا ہے شہریوں اور بالخصوص بچوں اور خواتین کاگھروں سے نکلنا محال ہو چکا ہے اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 5سال سے میونسپل کارپوریشن کے”کتے مار سکوارڈ “ختم کر دیئے گئے ہیں اور کئی سال سے آوارہ کتے تلف نہ کئے جانے کے باعث ان کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے اس وقت شہر بھر میں مجموعی طور پر ہزاروں آوارہ کتے موجود ہیں جو کسی بھی سانحے یا حادثے کا سبب بن سکتے ہیں جبکہ سٹلائیٹ ٹاؤن میں میونسپل کارپوریشن کی نرسری سے متصل سرکاری رہائش گاہوں کی سکیورٹی ہی آوارہ کتوں کے سپرد کر دی گئی ہے جس سے شہریوں کا دن کے وقت بھی اس علاقے سے گزرنا محال ہو چکا ہے اسی طرح صفائی پر مامور آر ڈبلیو ایم سی کی ذیلی ترک کمپنی ”البائراک“پی ایچ اے، آر ڈی اے اورواساکے باہر بھی درجنوں آوارہ کتے 24گھنٹے موجود رہتے ہیں جس سے دن کے اوقات میں بھی شہری ان داروں میں داخل نہیں ہو سکتے جبکہ شام کے بعد مری روڈ ریسکیو15سے اندر آنے والی لنک روڈ پر آوارہ کتوں کے گشت کے باعث صحافیوں کی پریس کلب تک رسائی بھی مشکل ہو چکی ہے اور کتوں کے غول موٹر سائیکل سواروں کے پیچھے بھاگتے ہیں جس سے بیشتر واقعات میں موٹر سائیکل سوار گر کر زخمی ہو چکے ہیں جبکہ شہریوں نے سوشل میڈیا پر وائرل کتے کے کاٹنے سے متاثرہ بچے کی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر بھر میں موجود یہ کتے کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں ادھر اس حوالے سے محکمہ صحت،آر ڈبلیو ایم سی،البائراک اور میونسپل کارپوریشن کے ذمہ داران نے ایکدوسرے کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ آوارہ کتے تلف کرنا ان کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں جبکہ میونسپل کارپوریشن کے ذرائع نے ”آن لائن“کو بتایا کہ کارپوریشن صرف کتے مار سکوارڈ کی نگرانی کرتی ہے جبکہ محکمہ صحت کی ٹیمیں آوارہ کتے تلف کرتی ہیں کارپوریشن کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ عدالت کی جانب سے آوارہ کتوں کو مارنے پر پابندی کی وجہ سے کتے مار سکوارڈ غیر فعال ہو چکے ہیں شہریوں نے کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں تاکہ ڈینگی مچھر کے ساتھ آوارہ کتوں کے ممکنہ نقصانات سے بچا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں