108

راول ڈیم میں جاری غیر قانونی کشتی رانی کا معاملہ

ڈائریکٹوریٹ پارک کاڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کو راول ڈیم میں جاری غیر قانونی کشتی رانی کے متعلق 16 جولائی 2019 کولکھا گیا خط ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے لکھے گئے خط میں ہوشربا انکاشافات12 جولائی کو پارکس ڈائریکٹوریٹ میں میٹنگ کا انعقاد کیا گیا, خط کا متن میٹنگ میں ڈپٹی ڈائریکٹر پارکس,پروجیکٹ آفیسر فیشریز, پارک مینیجر اور ایس ڈی او سمال ڈیم موجود تھے, خط کا متن میٹنگ میں ایگزیکٹو سمال ڈیم آرگنائزیشن کو بتایا گیا کہ راول ڈیم قمتی قومی اثاثہ ہے اور یہ ڈیم اسلام آباد میں واقعہ ہے, خط کا متن میٹنگ میں انتباہ کیا گیا کہ راول ڈیم کو مختلف دہشت گردوں کی جانب سے سیکیورٹی خدشات ہیں, خط کا متن غیر قانونی کشتی رانی سےدہشت گردوں کو راول ڈیم کو نشانہ بنانے میں مددمل سکتی ہے, خط کا متن

اے آئی جی اسلام آباد اور سپیشل برانچ نے خط نمبری 5421-26/sb مورخہ 26.09.15 کو خط میں لکھا جس میں غیر قانونی کشتی رانی پر پابندی عائد کی, خط کا متن

ماضی میں سپریم کورٹ نے کیس نمبر 13 2010 کو سوموٹو لیا, خط کا متن سپریم کورٹ سوموٹو کیس کے فیصلے میں راول ڈیم میں جاری غیرقانونی کشتی رانی پر پابندی کا کہاگیا, خط کا متن

کیبنٹ ڈویژن کی میٹنگ جو کہ 06.09.2010 کو منعقد ہوئی اس میں ڈائریکشن دی گئی کہ تمام لائسنس کینسل کیئے جائیں, خط کا متن

غیرقانونی کشتی رانی ڈیم کی کناروں سے چلائی جارہی ہے, خط کا متن

غیرقانونی کشتی رانی بغیر لانسنس اور اجازت کے چلائی جا رہی ہے, خط کا متن

غیرقانونی کشتی رانی طاقتور لوکل مافیہ جو کہ وہاں کے رہائشی ہیں کی طرف سے جاری ہے, خط کا متن

لوکل مافیا غیر قانونی کشتی رانی کرنے والے افراد سے اچھی خاصی رقم لیتے ہیں, خط کا متن

یہ غیر قانونی کشتی رانی کسی بھی حفاظتی سامان اور اقدامات کے بغیر جاری ہے, خط کا متن

کشتی کے ملاح ناتجربہ کار نابالغ ہیں, خط کا متن

ماضی میں کئی سیاح جان سے ہاتھ بیٹھے, خط کا متن

ڈوبنے والےسیاحوں کے لیئے کوئی سہولیات نہیں ہیں, خط کا متن

سیاحوں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیئے اکسیجن, غوطہ خور, ریسکیو عملہ, ایمبولینس,انجن والی کشتیاں اور اکسیجن ماسک موجود نہیں, خط کا متن

غیر قانونی کشتی رانی کرنے والے مافیا کے پاس 150 کشتیاں ہیں, خط کا متن

لوکل مافیا نے ڈیم کی زمین اور سرکاری اشیاء پر قبضہ کر لیاہے,خط کا متن

لوکل مافیا ڈیم کی حدود کی توڑپھوڑ اور نقصان پہنچانے میں ملوث ہے, خط کا متن

لوکل مافیہ کے خلاف متعدد بار ایف آئی آرز کا بھی اندراج کیا گیا, خط کا متن

لوکل مافیہ کے خلاف کوئی اقدامات نہیں کئے گئے,خط کا متن

ما ضی میں بھی کشتی رانی پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن اس پر بھی کوئی اقدامات نا کیئےگئے,خط کا متن

جب بھی ڈیم میں کسی سیاح کے ڈوبنے کا واقعہ ہوتاہے تو پارک انتظامیہ اور اسلام آباد انتظامیہ کو قصوروار ٹھہرایاجاتاہے,خط کا متن

ہم پر اس بات کا الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ہم نے غیر قانونی کشتی رانی کے معاملے پر آنکھیں بند کیوں رکھی, خط کا متن

ہم پر اخبارات اور نیوز چینلز پر تنقید کی جاتی ہے کہ ہم نے قانون پر عمل درآمد کو یقینی کیوں نا بنایا,خط کا متن

غیر قانونی کشتی رانی روکنے کا معاملہ پارکس انتظامیہ کے بس میں نہیں ہے, خط کا متن

اس معاملے کی وجہ سے پارکس کے عملے کے ساتھ لوکل مافیہ کے کئی جھگڑے ہوچکے ہیں, خط کا متن

غیر قانونی کشتی رانی کو روکنے پر پارک مینیجر سے مار پیٹ کی گئی جس کی آیف آئی آر موجود ہے, خط کا متن

اس تمام معاملے کو دیکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے التماس ہے کہ وہ غیرقانونی کشتی رانی کو بند کرانے میں اپنا کردار ادا کریں,خط کا متن

غیر قانونی کشتی رانی کو روکنے کے لیئے پارکس مینیجر بےبس ہے, خط کا متن

غیر قانونی کشتی رانی جاری رہنے کی وجہ سے مستقبل میں اگر کوئی واقعہ رونما ہوا تو اس میں پارکس انتظامیہ زمہ دار نا ہوگا,خط کا متن

ماضی میں سیاحوں کے ڈوبنے کر ہلاک ہونے واقعات اور مچھلیوں کی ہلاکت اسی غیرقانونی کشتی رانی کی وجہ سے ہوئی,خط کا متن

وقت کی ضرورت ہے کہ غیر قانونی کشتی رانی کے خلاف اقدامات کیئے جائیں,خط کا متن

اسلام آباد انتظامیہ, پولیس, پارکس انتظامیہ اور سی ڈی انفورسمنٹ کے تعاون سے ہی آپریشن ممکن ہے, خط کا متن

مشترکہ آپریشن سے ناصرف تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ غیرقانونی کشتی رانی کو بھی بند کیا جاسکتاہے,خط کا متن

مشترکہ آپریشن سے ہم آنے والی عید الاضحی پر آنے والی عوام کی قیمتی جانوں کو بچا سکتےہیں, خط کا متن

اسکے علاوہ راول ڈیم میں موجود پینے کے پانی کو گندہ ہونے سےبھی بچایاجاسکتاہے,خط کا متن

آپ سے التماس ہے کہ اس معاملے پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیاجائے,خط کا متن

عیدالضحی قریب آنے کے باوجوداسلام آباد انتظامیہ نے معلومات ہونے باوجود کوئی اقدامات ناکیئے

اسلام آباد انتظامیہ کی مبینہ مجرمانہ غفلت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے

کسی حادثے کی صورت میں کیا اسلام آباد انتظامیہ تمام زمہ داری قبول کرے گئی….?

کیا اسلام آباد انتظامیہ سپریم کورٹ کے احکامات نظرانداز کر کے توہین عدالت کی مرتکب نہیں ہو رہی…?

کیا عوام کی جان کی زمہ داری سے اسلام آباد انتظامیہ عہدہ براہ ہو سکتی ہے…?

کیا حکومت کی رٹ قائم کرنا اسلام آباد انتظامیہ کی زمہ داری نہی…?

کیا ریاست کے اندر ریاست بنانے والے اور مجرمانہ فعل میں ساتھ دینے والے سزا کے مستحق نہی….?

کیا اسلام آباد انتظامیہ کسی بڑے حادثے کے انتظار میں ہے….?

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں