Journalists 83

راولپنڈی پولیس کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے پر تشویش کا اظہار

راولپنڈی:وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے راولپنڈی پولیس کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی کو درست رپورٹنگ پر ٹارگٹ کرنانہ حکومت کی پالیسی ہے نہ کسی کو ایسا کرنے دیں گے سی پی او راولپنڈی کی جانب سے 3 صحافیوں کے ایڈیٹرز کو خطوط لکھنے کے معاملہ کی خود انکوائری خود کروں گی یہ بات انہوں نے راولپنڈی پریس کلب میں صحافیوں کے لئے کرونا ویکسینیشن سنٹر کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے خصوصی ملاقات میں کی اس موقع پر نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم، پریس کلب کی جوائنٹ سیکریٹری شکیلہ جلیل،راولپنڈی ہائی کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر بابر ملک (اے آر وائی)اور جوائنٹ سیکریٹری ارشاد قریشی (جیو نیوز)اور یوسف خان (اے پی پی) سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی صدر پریس کلب شکیل انجم نے مشیر اطلاعات کو بتایا کہ سی پی او راولپنڈی سمیت راولپنڈی پولیس ثبوتوں کے ساتھ درست خبریں فائل کرنے پر ہراساں کرتی ہے اور صحافیوں کو درست خبروں سے روکنے کے لئے مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا جاتا ہے راولپنڈی میں جرائم کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پولیس جرائم کو کنٹرول کرنے کی بجائے صحافیوں کو کنٹرول کرنے میں توانائیاں صرف کر رہی ہے شکیل انجم نے کہا کہ اگر راولپنڈی پولیس نے اپنے رویئے درست نہ کئے تو نیشنل پریس کلب اور راولپنڈی کے صحافیوں کا ایک وفد جلد وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرے گا جس پر فردوس عاشق اعوان نے یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کی مکمل انکوائری کروائیں گی انہوں نے کہا کہ حکومت صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دے گی۔