cpo rewalpindi 69

سی پی او راولپنڈی محمد احسن یونس کی 16 ماہ کی تعیناتی پر اک نظر

سی پی او راولپنڈی نے جب راولپنڈی پولیس میں بطور سٹی پولیس آفیسر چارج لیا تو راولپنڈی پولیس کے حوصلے بلند ہونا شروع ہوگئے. محمد احسن یونس نے عوام کے ساتھ ساتھ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے دن رات اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے. قبضہ مافیا کا قلعہ قمعہ کرنا اور پھر سیاسی پریشر نا لینا ان کی تعیناتی کا اہم ترین حصہ رہا. میرٹ پر کام کرنے والے پولیس اہلکاروں کا ہمیشہ حوصلہ بلند کیا اور کرپٹ پولیس اہلکاروں کی ہمیشہ سرزنش کی. عوام کے لیے روزانہ کی بنیادوں پر کھلی کچہری کا انعقاد تقریباً 400 سو زائد شہریوں کی روزانہ کی بنیاد پر مسائل سننا اور ان کے فوری حل کرنا محمد احسن یونس نے اپنا اولین فرض سمجھا اور اس کو بخوبی نبھایا. اور اگر بات کی جائے پولیس ویلفیئر کی تو سب سہے پہلے پولیس شہداء کی تصویری پولیس لائن ہیڈکوارٹر کے دیواروں پر تنصیب کرنا. راولپنڈی کے عوام کی جانو مال کی حاطر اپنی قیمتی جانوں کے نظرانے پیش کرنے والے ان بہادر سپتوں کے لیے شہداء گیلری کا قیام کرنا بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں.. پولیس خدمت مرکز کا قیام پولیس اہلکاروں کے مسائل حل کرنا اور سب سے بھڑ کر سی پی او راولپنڈی نے پولیس لائن ہیڈکوارٹر میں شاندار پولیس میس کا قیام ان کی خدمات کا حصہ ہیں. سی پی او محمد احسن یونس نے پولیس افسران اور اہلکاروں کو یہ سبق بھی دیا کہ کسی ظالم اور کسی سیاسی پالیشی اور مالشی کے سامنے ڈٹ جانا ہی حق اور سچ کی فتح ہے.بطور سی ٹی پولیس آفیسر شہریوں کے ہر قسم کے مسائل کو حل کرنے پر ترجیح دی اور جرائم کی شرح پر قابو پانا اور شہریوں کی درخواست پر فوری مقدمات کے اندراج کو یقینی بنانا بھی محمد احسن یونس کا ایک احسن اقدام تھا. آپ راولپنڈی کے عوام کے جانو و مال پر نظر رکھنے والے چوروں ڈیکیتوں کے لیے خوف کے علامت سمجھتا جاتا ہے. کوئی بھی آفیسر کسی بھی جگہ کسی بھی ضلع میں تعینات ہو تو کچھ عرصہ بعد اس کو تبدیلی کی شکل میں کسی اور ضلع میں جانا ہی ہوتا مگر آپ جہاں بھی جائیں گیں راولپنڈی کے عوام کے ساتھ ساتھ راولپنڈی پولیس کے آفسران و اہلکار آپ کی محکمہ پولیس کے لیے خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھیں گیں. میرے آٹھ سالہ صحافتی کیریر میں مینے ایک نڈر بہادر اور کھرا پولیس آفیسر آپ کو پایا.. آپ نے جس طرح سے راولپنڈی کے قبضہ مافیا اور سیاسی پالیشی اور مالشیوں ناخوں چنے چبوائے اس کی کوئی مثال راولپنڈی پولیس میں اس سے پہلے نہیں ملتی..آپ نے حقیقی تبدیلی لائی اور آج آپ کی تبدیلی کی خبر نے راولپنڈی کے عوام کے ساتھ ساتھ پولیس افسران اور اہلکاروں کو بھی شیدی زہنی دباؤ کا شکار کردیا. اور کچھ مفاد پرست سیاسی پالیشی اور مالشیوں کے ساتھ ساتھ کچھ نام نہاد دو نمبر صحافی جن پر درجنوں ایف آئی آرز بھتہ کی درج ہیں وہ آج بھنگڑے ڈال رہے جن کا دانا پانی آپ کی وجہ سے بند تھا وہ مٹھائیاں بانٹ رہے ہونگے. لیکن شاہد وہ یہ نہیں جانتے کہ آپ کے جانے سے محکمہ پولیس راولپنڈی اور راولپنڈی کے عوام پر اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے.. میری اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ آئندہ آپ کی جگہ جو بھی سی ٹی پولیس آفیسر یہاں تعینات ہو ؤہ آپ کی طرح ایماندا. نڈر بہادر اور عوام کے لیے درد دل رکھنے والا آفیسر ہو.. اللہ پاک سے دعا ہے کہ آپ کی مزید عزت والی زندگی عطا فرمائے اور جب تک آپ محکمہ پولیس میں ہیں اسی طرح مظلوموں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں. راولپنڈی کے عوام اور راولپنڈی پولیس افسران سمیت پولیس اہلکاروں کے دلوں میں آپ کی عزت ہمیشہ قائم و دائم رہے. وسلام.