Convention 24

مشروم کی کاشت کے سلسلہ میں محکمہ زراعت کوٹلی ستیاں کے دفتر میں نیفا کے زیر اہتمام کنونشن کا انعقاد

خطہ کوہسار کی سرزمین سونا اگلنے والی زمین ہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع کوٹلی ستیاں کے دفتر میں مشروم کی کاشت کے سلسلے میں کنونشن کا انعقاد کیا گیا، مشروم انتہائی منافع بخش اور مفید فصل ہے جسکی کاشت سے کاشتکار بہت زیادہ منافع کما سکتے ہیں، ڈاکٹر ناصر کھوکھر کا خطاب، تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز دفتر محکمہ زراعت توسیع کوٹلی ستیاں میں نیفا کے زیر اہتمام ایک کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کے علاوہ کوٹلی ستیاں کی مختلف یونین کونسلز کے کاشتکاروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، کنونشن سے ڈاکٹر ناصر کھوکھر پاکستان سائنس فاؤنڈیشن، ڈاکٹر محمد ابراہیم پرنسپل سائنٹسٹ نیفا پشاور، اورنگزیب خان سائنٹیفک اسسٹنٹ نیفا پشاور، زراعت آفیسر کوٹلی ستیاں میڈم قرات العین، قمر زیب ستی، آصف محمود ستی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشروم انتہائی منافع بخش فصل ہے جسکی کاشت سے کاشتکار بہت زیادہ منافع حاصل کر سکتے ہیں اور اس کے لیئے مری کوٹلی ستیاں کی زمین بہت اچھی ہے جس کے لیے کنالوں میں زمیں کا درکار ہونا ضروری نہیں بلکہ ایک کمرے میں مناسب ٹمپریچر میں اس کی کاشت کے ابتدائی مراحل درکار ہوتے ہیں کنونشن میں محکمہ زراعت کوٹلی ستیاں کے فیلڈ سٹاف کے علاوہ کوٹلی ستیاں کے کاشتکاروں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی اور مشروم کی کاشت کے سلسلے میں انتہائی قیمتی مشوروں سے مستفید ہوئے، مقررین کنونشن کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ زراعت اپنی خدمات احسن طریقے سے نبھا رہا ہے لیکن جنگلی سوروں کی فصلات کو نقصان سے زمینداروں میں انتہائی تشویش پائی جاتی ہے جو فصل کے تیار ہونے پر اس قدر نقصان پہنچاتے ہیں کہ فصلوں کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیتے ہیں محکمہ وائلڈ لائف کو اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مقامی زمینداروں میں پائی جانے والی مایوسی دور ہو سکے۔۔