Ghauri Town Dealers 84

غوری ٹاون ڈیلرز و مذاکراتی کمیٹی نے ہنگامی پریس کانفرنس

اسلام آباد (عمران ستی) غوری ٹاون ڈیلرز و مذاکراتی کمیٹی نے ہنگامی پریس کانفرنس جس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غوری ٹاون کے مالکان راجہ علی اکبر مرحوم کے فرزند ،چوہدری عبدالرحمان اور چوہدری عثمان آپس کے معملات کو حل کریں اور متاثرین غوری ٹاون کے پلاٹ ان کو الاٹ کیے جائیں ورنہ غوری کے ڈیلرز حضرات اپنے حق اور متاثرین کے حق کے لیے ہر فورم پر جائیں گے اور مکمل قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا 1998 سے قائم غوری ٹاون کے مالکان نے کیوں نہیں سی ڈی اے سے این او سی حاصل کی آج بھی کروڑوں روپے کے ڈیلوپمنٹ کے نام پر عوام سے لیے جارہے ہیں جب کہ 50 فیصد غوری ٹاون بجلی اور گیس کی سہولت سے محروم ہے جب کسی بھی غوری ٹاون کے مالک پر قانون کا شکنجہ آتا ہے وہ کہتا ہے میرا کوئی تعلق نہیں جو غوری ٹاون کے کرتا دھرتا بنے ہیں وہ آپس کی جنگ میں عوام کا نقصان نہ کریں عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے متاثرین کی طرف سینکڑوں پلاٹوں کے کاغذات کیمپ میں جمع ہوچکے ہیں ہم انشاءاللہ تمام متاثرین کو ایک دن بلا کر مشترکہ جدوجہد کا آغاز کریں گے غوری ٹاون کے مالکان نے بلکل چپ سادھ لی ہم کچھ دیر اس لیے خاموش تھے کہ بانی راجہ علی اکبر مرحوم کی وفات ہوئی تھی لیکن اس کے بعد ابھی تک مالکان کی طرف سے متاثرین اور ڈیلرز کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا اب متاثرین اور ڈیلرز اپنے حقوق کے لیے احتجاجی تحریک بھی چلائیں گے اور قانونی راستہ بھی اختیار کریں گے ہماری وزیراعظم پاکستان عمران خان، چیف جسٹس پاکستان ،وزیر داخلہ ،کمشنر اسلام آباد اور سی ڈی اے چیئرمین سے اپیل ہے کہ جلد سے جلد غوری کے مسائل کو حل کیا جائے عوام میں سخت پریشانی پائی جاتی ہے آخر کب تک عوام کی جمع پونجی لٹتی رہے گی اگر غوری کو حکومت بھی نہیں مانتی تو رجسٹری اور انتقال کے نام پر عوام کی جیب سے پیسہ کیوں نکالا جارہا ہے اگر ہم سب اور غوری کے رہائشی پاکستان کے شہری ہیں تو پھر کیا بنیادی سہولیات پر ہمارا حق نہیں ہے