deadly attack 79

غیرقانونی غوری ٹاون کے ظالم گارڈز کی طرف سے مقامی تاجروں پر قا تلانہ حملہ

اسلام آباد: اسلام آباد میں موجود بغیر این او سی کے قائم غوری ٹاون سوسائٹی کے مالکان کا عام عوام پر ظلم ستم جاری رہائشیوں اور پراپرٹی ڈیلرز میں شدید اضطراب پایا جانے لگا گذشتہ دن غوری ٹاون انتظامیہ کے غیرقانونی گارڈز کی طرف سے پراپرٹی ڈیلرز جاوید ستی ،شرجیل ستی اور قمراز ستی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں تینوں افراد کے زخمی ہونے کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی پولیس نے موقع پر جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور جاوید ستی کی طرف سے درخواست کے بعد غوری ٹاون کے مالک چوہدری عثمان اور فرنٹ مین عمران اسلم کے خلاف پولیس اسٹیشن کورال میں ایف آئی آر درج کروا دی گئی جس میں دفعہ 148،149،342،اور 382 درج ہیں غوری ٹاون میں آئے روز غیرقانونی گارڈز کی وجہ سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے بڑے بڑے بال رکھے جرائم پیشہ افراد پر مشتمل سیکورٹی اہلکار آئے روز عام عوام کو تنگ کرتے ہیں رہائشیوں اور پراپرٹی ڈیلرز پر رعب ڈالنے کے لیے گارڈز کو فری ہینڈ دیا گیا ہے جب کوئی غوری ٹاون کا متاثر آواز اٹھاتا ہے تو جعلی سیکورٹی اہلکاروں کی طرف سے عوام کو زدکوب کیا جاتا ہے پراپرٹی ڈیلرز اور عوام الناس کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس پاکستان ،وزیر داخلہ ،کمشنر اسلام آباد، اور آئی جی اسلام آباد سے اپیل ہے کہ غوری ٹاون انتظامیہ کے خلاف آزادانہ تحقیقات کا آغاز کیا جائے اور عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جاۓ غوری ٹاون کے رہائشی عوام نے اپنی زندگی کی جمع پونجی یہاں لگائی ہے اور بجلی اور گیس کے کنکشن پر بھی پابندی ہے اوپر سے عوام کو کمپنی کی طرف بھی آئے روز ہراسا‍ں کرنا معمول بن چکا ہے