Abuse 12

3بار سز ائے موت اور3بار عمرقید

راولپنڈی : راولپنڈی پولیس کی بڑی کامیابی،معزز عدالت نے 30بچوں سے زیادتی کرنے والا،بچوں کوزیادتی کا نشانہ بنا کر پونو گرافی کے ذریعے پیسے کمانے والے انٹرنیشنل ڈارک ویب کے سرغنہ سہیل ایاز کوجرم ثابت ہونے پر03بار سز ائے موت اور03بار عمرقیدجبکہ ساتھی ملزم خرم طاہرعرف کالوکو 07سال قید کی سزادینے کا حکم سنادیا،ملزم کوراولپنڈی پولیس نے12نومبر 2019کوگرفتارکرکے ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیاتھا،گرفتارملزم بیرون ملک بچوں سے زیادتی کے جرم میں سزا کاٹ چکا ہے،ملزم نے ڈیپورٹ ہونے کے بعد اورگرفتاری سے قبل 30بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایاتھا۔تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کی معزز عدالت نے پونو گرافی کے مشہور کیس میں گرفتار ملزم سہیل ایاز کے خلاف بڑا فیصلہ سنا دیا،راولپنڈی پولیس نے12نومبر 2019کو عالمی سطح کا سزا یافتہ ایسا کریمنل گرفتار کیا تھاجو بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کے جرم میں برطانیہ اور اٹلی میں جیل کاٹنے کے بعد ڈی پورٹ ہو چکا ہے،ملزم نے ڈیپورٹ ہونے کے بعد اورگرفتاری سے قبل 30بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا،روات پولیس نے قہوہ بیچنے والے محنت کش 12/13سالہ بچے کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم سہیل ایاز کو گرفتارکیاتھا،ملزم سے تفتیش کی گئی تو ملزم انٹرنیشنل ڈارک ویب کاسرغنہ نکلا،جو برطانیہ اوراٹلی میں بچوں سے زیادتی کی وارداتوں میں جیل کاٹ چکا تھا،برطانیہ میں ملزم کو عدالت کی طرف سے باقاعدہ سزا سنائی گئی،بعدازاں ملزم اٹلی میں بھی زیادتی کے جرم میں گرفتار ہوا،اس کا وہاں پر بھی ٹرائل ہوا،ملزم سہیل ایازکو برطانیہ اور اٹلی سے ڈی پورٹ کر دیا گیا، ملزم بدفعلی کے مکرہ دھندے کے دوران لائیو ویڈیو چلاتا،برہنہ تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کر کے پونو گرافی کے ذریعے ”انٹرنیشنل ڈارک ویب“ سے پیسے کماتا تھا،عالمی سطح پر سزا کاٹنے کے بعد ڈیپورٹ ہوا اورپاکستان واپس آکر اپنا مکروہ دھندہ جاری رکھا،ملزم نے تفتیش کے دوران اپنے ساتھی خرم طاہرعرف کالوکے شریک جرم ہو نے کو اعتراف کیاجس پر روات پولیس نے مورخہ 14-11-2019کو ملزم خرم طاہرعرف کالو کوٹریس کرکے گرفتارکرلیا،راولپنڈی پولیس نے ملزم کوگرفتارکرنے کے بعد اس کے زیر استعمال موبائل فونز،لیپ ٹاپ،ویڈیو کیمرہ اوردیگر سامان برآمد کرکے فرانزک لیبارٹری بھیجوایا،ملزم سے تفتیش کے دوران پونو گرافی کے لیے استعمال ہونے والی نشہ آورادویات،منشیات اورآئس وغیر ہ برآمد کرکے ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیاگیا،ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد فیصل کی سربراہی میں سابقہ ایس پی صدررائے مظہر اقبال،ڈی ایس پی انوسٹی گیشن مرزا طاہر سکندر،ایس آئی ظہور،اے ایس آئی تصدق اوراے ایس آئی زین العابدین پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی،ایس ایس پی انوسٹی گیشن اورتشکیل کردہ ٹیم نے نہ صرف ملزم سہیل ایاز عرف علی کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کی نگرانی کی بلکہ ملزم کوٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کرنے کے بعدٹرائل کے دوران ٹھو س شہادتیں بھی ریکارڈ کروائیں،مقدمات کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر مقدمات کی تفتیش اورپیروی کے لیے ڈی ایس پی رینک کے آفیسرمرزا طاہر سکندر پہلی مرتبہ کو فوکل پرسن مقرر کیاگیا،جن کے زیرنگرانی تفتیشی ٹیموں نے جدید طریقہ تفتیش اورڈیجیٹل انوسٹی گیشن کے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے شواہد کو اکھٹا کیا،ملزم اورمتاثرہ بچوں کے میڈیکل وڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے،معزز عدالت نے ٹھوس شواہد اورشہادتوں کی بناء پر ملزم سہیل ایاز کوجر م ثابت ہونے پر03مقدمات میں مختلف دفعات پر 03بارسزائے موت،03بار عمرقید،03مرتبہ 10/10سال اور15/15سال قید،منشیات کے مقدمہ میں 5سال 06ماہ قید،25ہزار روپے جرمانہ اورمتاثرہ بچوں کو 5/5لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا،جبکہ ساتھی ملزم خرم طاہرعرف کالو کو07سال قیداور02لاکھ روپے جرمانے کی سزا دینے کا حکم دیا،اس موقعہ پر سی پی اومحمد احسن یونس کا کہناتھاکہ مجرم کی بروقت گرفتاری اورٹھوس شواہد کی بناء پر چالان کرنے پر تفتیشی ٹیم داد اورتحسین کی مستحق ہے مستقبل کی معماروں کے ساتھ زیادتی ناقابل برداشت جرم ہے، ایسے جرائم میں ملوث ملزمان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں