Rawalpindi Institute of Cardiology 24

راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی تعینات

راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد عمر کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی تعینات کردیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل اس عہدے پر ایڈیشنل چارج ڈاکٹر محمد مجتبیٰ علی صدیقی ایسوسی ایٹ پروفیسر کارڈیالوجی کے پاس تھا تاہم پروفیسر محمد عمر کا دل کے عارضے کے حوالے سے نہ تو کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی ان کے پاس حوالے سے کوئی ڈگری موجود ہے تاہم ماضی میں بھی پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر کیخلاف راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں متعدد کرپشن کے الزامات لگ چکے ہیں جس میں اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوتا رہا ہے۔ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ناتجربہ کارڈاکٹر کو دل کے ہسپتال میں تعینات کرنے سے جہاں لاکھوں افراد کی زندگیاں دائو پر لگ گئی ہے تو دوسری جانب پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی جانب سے بغیر کسی ڈگری اور بغیر کسی تجربے کی بنیاد کو نظر انداز کرتے ہوئے پروفیسر محمد عمر کو بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی تعینات کرنا سوالات کو جنم دیتاہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ نے تمام تر میرٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اپنے من پسند اور چہیتے آفیسر کو قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے نواز دیا ہے جبکہ راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ایڈیشنل ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایسوسی ایٹ پروفیسر کارڈیالوجی کو ہٹا کر ناتجربہ کار پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر کو تعینات کردیا گیا جبکہ اس سے قبل بھی اس سیٹ پر تعینات رہنے والے متعدد ڈاکٹروں کا تعلق شعبہ کارڈیالوجی سے تھا تاہم پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر کے پاس نہ تو کارڈیالوجی کے حوالے سے کوئی تجربہ موجود ہے اور نہ ہی ان کے پاس اس حوالے سے کوئی ڈگری موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی پروفیسر محمد عمر کے خلاف راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں اپنا ذاتی اثررسوخ استعمال کرکے غیر قانونی کام کرنے سمیت کرپشن کرنے کے متعدد الزامات موجود ہے جس پر انکوائری کرنے کے بجائے موصوف کو مزید نوازنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس حوالے سے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تبدیلی کے نام پر بنانے والی حکومت پنجاب کے اہم وزیر بھی اس حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر کی خاصی سپورٹ کرتے ہیں اور تمام تر الزامات کے باوجود پروفیسر عمر کیخلاف کارروائی کرنیوالوں کیسامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوتے ہیں اگر نیب، ایف آئی اے اور دیگر حکومتی ادارے اس حوالے سے انکوائری کرکے تو میڈیکل تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن منظر عام پر آسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں