مون سون سیزن زیادہ خطرناک ہونے کی پیشگوئی, اور

پاکستان میں آئندہ مون سون سیزن زیادہ خطرناک ہونے کی پیشگوئی,

 محکمہ موسمیات پاکستان اور نو ممالک کی مشترکہ تحقیقی رپورٹ جاری 

 

محکمہ موسمیات نے پاکستان میں آئندہ مون سون سیزن زیادہ خطرناک ہونےکی پیشگوئی کردی۔

محکمہ موسمیات پاکستان اور 9 ممالک کی مشترکہ تحقیقی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق مستقبل میں مون سون کی بارشیں مزید شدت اختیار کریں گی، اور پاکستان میں آئندہ مون سون زیادہ خطرناک ہونے کا خطرہ ہے۔

مشترکہ رپورٹ میں پاکستان میں ہونے والی حالیہ بارشوں اور سیلاب سے نقصانات کی وجوہات بھی بتائی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مون سون بارشوں سے نقصانات کی وجوہات میں ناقص دریائی مینجمنٹ سسٹم، غیرقانونی آباد کاری اور معاشی عدم استحکام شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی درجہ حرارت 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھنے سے بارشیں 50 تا 75 فیصد زیادہ ہوئیں، مستقبل میں درجہ حرارت مزید بڑھنے پر بارشیں کئی گنا زیادہ شدید ہوسکتی ہیں، اور آئندہ اگست کے 5 دن مون سون بارشوں کا بلند سطح تک رحجان جاسکتا ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم پر عملدرآمد کا فقدان ہے، نقصانات سے بچاؤ کیلئے 2010 کے سیلاب کے بعد بنائے گئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔

*پاکستان میں آئندہ مون سون سیزن زیادہ خطرناک ہونے کی پیشگوئی*
*محکمہ موسمیات پاکستان اور نو ممالک کی مشترکہ تحقیقی رپورٹ جاری*

محکمہ موسمیات نے پاکستان میں آئندہ مون سون سیزن زیادہ خطرناک ہونےکی پیشگوئی کردی۔

محکمہ موسمیات پاکستان اور 9 ممالک کی مشترکہ تحقیقی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق مستقبل میں مون سون کی بارشیں مزید شدت اختیار کریں گی، اور پاکستان میں آئندہ مون سون زیادہ خطرناک ہونے کا خطرہ ہے۔

مشترکہ رپورٹ میں پاکستان میں ہونے والی حالیہ بارشوں اور سیلاب سے نقصانات کی وجوہات بھی بتائی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مون سون بارشوں سے نقصانات کی وجوہات میں ناقص دریائی مینجمنٹ سسٹم، غیرقانونی آباد کاری اور معاشی عدم استحکام شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی درجہ حرارت 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھنے سے بارشیں 50 تا 75 فیصد زیادہ ہوئیں، مستقبل میں درجہ حرارت مزید بڑھنے پر بارشیں کئی گنا زیادہ شدید ہوسکتی ہیں، اور آئندہ اگست کے 5 دن مون سون بارشوں کا بلند سطح تک رحجان جاسکتا ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم پر عملدرآمد کا فقدان ہے، نقصانات سے بچاؤ کیلئے 2010 کے سیلاب کے بعد بنائے گئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔

جواب دیں