waseem jabran murree 55

محبت ہو یا نفرت ہو میں عیاری نہیں کرتا

غزل
محبت ہو یا نفرت ہو میں عیاری نہیں کرتا
جو ظاہر ہے وہی باطن اداکاری نہیں کرتا

اے دل تُو بھی ستم ڈھاتا ہے غم خواری نہیں کرتا
مجھے بھی بد گماں کرتا ہے دلداری نہیں کرتا

اگر حق پر نہ ہو کوئی تو کہتا ہوں غلط اس کو
کسی بھی شخص کی بے جا طرف داری نہیں کرتا

جو ہے دشنام کا لہجہ تو یہ تہذیب ہے اس کی
میں چپ رہتا ہوں لیکن تلخ گفتاری نہیں کرتا

خوشامد ان کی خو ہے سچ بھلا یہ کیسے بولیں گے
کبھی بھی شاہ پر تنقید درباری نہیں کرتا

مرے بوئے ہوئے اشجار تو پھل پھول لاتے ہیں
میں پتھریلی زمینوں میں شجر کاری نہیں کرتا

وسیم جبران