لغزشیں ہوتی ہیں ساری آنکھ سے پھیلتی ہے تابکاری آنکھ سے 25

لغزشیں ہوتی ہیں ساری آنکھ سے پھیلتی ہے

غزل

لغزشیں ہوتی ہیں ساری آنکھ سے
پھیلتی ہے تابکاری آنکھ سے

مل بھی سکتی ہے تمہیں جنت یہیں
دیکھ لو دنیا ہماری آنکھ سے

ڈائری کے دیکھ کر پھر سے ورق
فلم سی میں نے گزاری آنکھ سے

ذہن کے پردے پہ اب بھی نقش ہے
ہم نے جو صورت اتاری آنکھ سے

کیسے ہوتی اک زمانے کو خبر
کھل گیا سب کچھ تمہاری آنکھ سے

وقت ہے جبران تم بھی دیکھ لو
صورتیں سب پیاری پیاری آنکھ سے

وسیم جبران

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں