14

یہ تری یاد ہے یا تُو مرے دروازے پر دستکیں دیتی ہے

غزل

یہ تری یاد ہے یا تُو مرے دروازے پر
دستکیں دیتی ہے خوشبو مرے دروازے پر

تو نے چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش کی ہے
تجھ کو لائی ہے تری خو مرے دروازے پر

دل تو تاریک ہی تھا گھر میں اندھیرا کیوں ہے
پوچھنے آتے ہیں جگنو مرے دروازے پر

دل بھی سنتا ہے تری چاپ نہاں خانے میں
تیری آہٹ ہے کہ جادو مرے دروازے پر

مری قسمت کہ ملی تجھ کو بھی اتنی فرصت
آ گیا چل کے جو خود تو مرے دروازے پر

سچے موتی ہیں یہ پیروں میں بھی آ سکتے ہیں
نہ گرا آنکھ سے آنسو مرے دروازے پر

مجھ کو منظور ہے دشمن کی بھی خاطر جبران
وہ جو آئے کھلے بازو مرے دروازے پر

وسیم جبران

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں