121

کیوں دیا تھا سماج پتھر کا – پروفیسر وسیم جبران گِل

کیوں دیا تھا سماج پتھر کا
تو ہی کر اب علاج پتھر کا
ہم ہیں اب بھی غلام پتھر کے
ہم پہ اب بھی ہے راج پتھر کا
تو نے بوئے زمین میں پتھر
اب اگے گا اناج پتھر کا
ہم نے دل کو بنا لیا پتھر
جب ہؤا ہے رواج پتھر کا
دل ہے لوہے کا اس کے سینے میں
جس کے سر پر ہے تاج پتھر کا
اس کا دل بھی تو قرض ہے مجھ پر
مجھ پہ واجب خراج پتھر کا
یہ کرشمہ عجیب ہے جبران
آنکھ شبنم مزاج پتھر کا