Computer teachers 14

لاہورپنجاب گورنمنٹ سکولز ایسوسی ایشن آف کمپیوٹر ٹیچرز (پیکٹ)

لاہورپنجاب گورنمنٹ سکولز ایسوسی ایشن آف کمپیوٹر ٹیچرز (پیکٹ) پنجاب نے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کو 14 جولائی کودفتر وزیراعلی پنجاب 7۔کلب روڈ لاہورپر احتجاج کرنے کی وجوہات پر خط لکھ دیا۔ خط میں وزیراعظم پاکستان کو پنجاب کے اساتذہ کی پریشانیوں سے آگاہ کیا۔ خط پیکٹ پنجاب کے صوبائی صدر کاشف شہزاد چودھری نے لکھا۔خط میں کہا گیا کہ عوام کے ساتھ ساتھ اساتذہ میں بھی دن بدن بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ مہنگائی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے لیکن طویل عرصہ کے بعد روایت کے خلاف تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ جبکہ کٹوتیوں کی شرح میں اضافے ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف ملازمین کے مخصوص طبقات کو آپکی حکومت میں ڈیڑھ سو گنا تک اضافہ دینے کی بدعت ڈالی گئی جس سے عام ملازمین بالخصوص اساتذہ میں حکومت کے خلاف بددلی اور نفرت زوزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔ پنجاب کے اساتذہ دیگر تمام صوبوں اور وفاق کی نسبت کم مراعات اور تنخواہ پر گزربسر کر نے پر مجبور ہیں۔ وفاق اور سندھ کے اساتذہ کو چھٹیوں میں کنوینس الاونس دیا جارہا ہے لیکن پنجاب میں اس کی بھی کٹوتی ہو رہی ہے۔ ہاؤس رینٹ اور میڈیکل الاونس 2008 کی سطح پر فریز ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مختلف محکموں کے درمیان تنخواہوں کی تفریق ختم کی جائے اور یکساں پے سکیل کا نفاذ کیا جائے اور تمام ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہوں میں ضم کیے جائیں۔ ریٹائرڈ اساتذہ کو دو سال سے لیو انکیشمنٹ اور دیگر ادائیگیاں نہیں کی جارہیں۔ وزیرسکول ایجوکیشن پنجاب کے تجویز کردہ بلاجواز اور بے تکے اقدامات بھی محکمہ سکول ایجوکیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور حکومت کی “تبدیلی ” کے عنوان کے لئے بدنامی کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔ بڑے بڑے اعلانات اور بے سود معرکتہ الاراء کاموں کی بجائے بعض چھوٹے چھوٹے اور مناسب اقدامات کے ذریعے، محکمہ میں زیرالتوا امور کو نپٹا کر سکولوں کی کارکردگی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ کمپیوٹر ٹیچرز اور دیگر اساتذہ کے متعدد امور زیر التوا ہیں۔ ایک سال قبل انکے حل کے وعدے بھی کیے گیے لیکن تاحال کوئی ایک مسلہ بھی حل نہیں ہوا۔ مثلا گیارہ ہزار کے قریب کمپیوٹر سائنس اور دیگر تمام مضامین کے سیکنڈری سکول ایجوکیٹرز / اے ای اوز بار بار وعدوں کے باوجود ابھی تک غیر مشروط مستقل نہیں ہو سکے۔ حد تو یہ ہے کہ 2011-12 میں بھرتی ہونے والے کئی اساتذہ ابھی تک ضلعی افسران کی نااہلی سے مستقل نہیں ہوسکے۔ 14 سال گزرنے کے باوجود آج تک ای ایس ٹی کمپیوٹر سائنس (EST-CS)سے ایس ایس ٹی کمپیوٹر سائنس (SST-CS)اور ایس ایس ٹی کمپیوٹر سائنس (SST-CS)سے سبجیکٹ سپیشلسٹ کمپیوٹر سائنس(SS-CS) کا سروس سٹرکچر نہیں بنایا جا سکا، جو پرائمری سکول ٹیچرز (PSTs) کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر ز کر چکے ہیں ان کی پروموشن کا کوئی طریقہ طے ہی نہیں کیا گیا بلکہ وعدوں کے باوجود مشاورت تک شروع نہیں کی گئی۔ کمپیوٹر لیب انچارج، قاری ٹیچرز، لیب اٹنڈینٹ کی اپگر یڈیشن بھی کئی سالوں سے تاخیر کا شکار ہے۔ آئی ٹی ٹیچرز کو ریگولر ہونے تک کمپیوٹر الاؤنس دیا جاتا تھا جسے بعد میں بند کر دیا گیااور جلد دوبارہ جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا جو آج تک وفا نہ ہو سکا۔ اس سلسلہ میں ایک سمری بھی بھیجی گئی جسے بعد میں شاید ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔اسی طرح پنجاب بھر کے ہائر سیکنڈری سکولوں میں وعدوں کے باوجود سبجیکٹ سپیشلسٹ کمپیوٹر سائنس(SS-CS) کی آسامیاں نہیں دی گئیں۔ کمپیوٹر ٹیچرز کو غیر ضروری کاموں میں الجھا دیا گیا ہے سکول ایجوکیشن پنجاب کی طرف سے جاری کردہ لیٹرز پر اکثر ضلعی افسران عمل کرناضروری ہی نہیں سمجھتے بلکہ غیر ضروری کاموں سے انکار پر ان کو سزائیں دی جاتیں ہیں۔ابتدا میں گریڈ 17 میں بھرتی ہونے والے کمپیوٹر ٹیچرز کو مستقلی کے وقت گریڈ 16 دیا گیا جبکہ پاکستان کے باقی صوبوں میں کمپیوٹر ٹیچرز گریڈ 17 میں ہی کام کر رہے ہیں اور انہیں ٹائم سکیل بھی دیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے سکولوں میں ہزروں طلبہ وطالبات ایلیمنٹری کلاسز سے ہائر سیکنڈری کلاسز تک کمپیوٹر سائنس کا مضمون پڑھ رہے ہیں لیکن کمپیوٹر سائنس کا ٹیچر ایک سکول میں صرف ایک ہے جبکہ طلبا اور اساتذہ کا تناسب(STR) پورا کرنے کی سوچ ہی نہیں ہے۔ اسی طرح سکول ایجوکیشن پنجاب میں پی ایس ٹی (PST)، ای ایس ٹی (EST)، ایس ایس ٹی (SST)، سبجیکٹ سپیشلسٹ (SS)، ہیڈماسٹر، پرنسپل کی ان سروس پروموشن کوٹہ کی ہزاروں آسامیاں دوسالوں سے خالی پڑی ہیں جن پر پروموشن نہیں کی جا رہی۔ سینکڑوں سکول جونئیر اساتذہ بغیر ہیڈ ٹیچرز کے چلا رہے ہیں اس سارے کام کے لئے الگ سے بجٹ کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے صرف ارباب اختیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں