23

چینی انکوائری کمیشن رپورٹ:عدالت نےمشروط حکم امتناعہ جاری کردیا

چینی کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے شوگر مل مالکان اور عوام دونوں کو عارضی ریلیف مل گیا۔ عدالت نے چینی کی فروخت 70روپے فی کلو یقینی بنانے کی شرط پر حکومت کو مل مالکان کیخلاف 10 روز تک کسی بھی کارروائی سے روک دیا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کی درخواست پر 11 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اس کمیشن نے بتایا کہ چینی کی قیمت کیوں بڑھی؟ کیا ذمہ داروں کا تعین کیا گیا؟ اگر عام آدمی کو سستی چینی کی دستیابی کے لئے کمیشن نے کچھ نہیں کیا تو پھر کیا کیا ہے ؟ کمیشن غریب آدمی کے لئے بنا لیکن وہ بات سافٹ ڈرنکس کی سبسڈی پر کر رہا ہے ۔ پیٹرول کی قیمت کم ہوئی تو پیٹرول غائب ہو گیا۔ یہاں ہر جگہ مافیا ہے۔

شوگر ملز کے وکیل نے کہا حکومت ہمارا میڈیا ٹرائل کر رہی ہے ، شہزاد اکبر نے معاملہ عدالت آجانے کے باوجود پریس کانفرنس کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا آپ عوام کو ہر حال میں چینی 70روپے میں فراہمی یقینی بنائیں ، حکومت کو آئندہ سماعت تک کارروائی سے روک رہے ہیں ، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے بھی کہا کہ آپ اس بات کی مخالفت کر کے ایساتاثر نہ دیں کہ عوام کو ملنے والے ریلیف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

اس موقع پر عدالت نے شہزاد اکبر، واجد ضیا سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے سماعت 10دن تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں