کرونا وائرس 28

پی سی ہوٹل بھوربن کا سول انجینئر فاروق انجم کورونا وائرس کی وجہ سے جان کی بازی ہار گیا

پی سی ہوٹل بھوربن کا سول انجینئر فاروق انجم کورونا وائرس کی وجہ سے جان کی بازی ہار گیامری میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد دو ہو گئی ہے جبکہ مریضوں کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ہے مری میں کوروناوائرس خطر ناک صورتحال اختیار کر گیا مری جیسے محفوظ ترین علاقہ میں انتہا درجہ کی غفلت سے دس دن کے اندر کورونا وائرس ایک دم نمودار ہوا بے احتیاطی کی وجہ سے دوجانوں کو نگل گیا اور بیس افراد کو نشانہ بنا لیا مری میں باہر سے آنے والے لوگوں اور بڑے پیمانے پر تعمیرات کے لئے باہر سے آنے والے مزدورں کی چیکنگ یا سکریننگ نہ ہونے کی وجہ سےکورونا وائرس نے مری کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی حکومت کی طرف سے حفاظتی تدابیر پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا اس خطر ناک صورت حال پر مری میں سخت خوف و ہراس پایا جا رہا ہے اہلیان مری کا مطالبہ ہے کہ مری میں کرونا کی وباء پھیلنے کے نتیجے میں مری سترہ میل دونوں ٹول پلازوں کو مکمل سیل کیا جاۓ مری کے شہریوں کو بھی شدید ایمرجنسی کے علاوہ سفر کی اجازت نا دی جاۓ مری کے تمام داخلی و خارجی کو مکمل سیل کیا جاۓ اور بنا سكیننگ کے کسی کو مری کی حدود میں نا داخل ہونے دیا جاۓ اور ساتھ مری کی انتظامیہ کی سست روی دیکھنے میں آرہی ہے کہ بہت سے دوکانیں جن کو اجازت نہیں وہ بھی کھلی ہوئی نظر آرہی ہیں اور بازاروں میں چہل پہل بھی معمول کے مطابق ہوتی جا رہی ہے جسے فوری کنٹرول کیا جاۓ اور حکومت کی طرف سے تمام حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد كرایا جاۓ مری پی سی ہوٹل میں کرونا وائرس پھیلانےوالے زمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے مری انتظامیہ پی سی ہوٹل میں ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے میں ۔مکمل ناکام رہی جن کی غفلت اور کوتاہی کے باعث یہاں کے چالیس کے قریب ہوٹل ملازمین بند ہوٹل میں موجود رہے جن کے آپس کے میل جول کے بعد کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہوا لیکن مری انتظامیہ ہوٹل خالی کروانے کے بجائے دعوے کرتی رہی اور حقائق تو یہ ہیں کہ مری کی انتظامیہ جو عام لوگوں کے لئے قانون پر عمل درآمد کروانے کے لئے سخت لائحہ عمل اپناتی آئی ہے لیکن فائیو سٹار ہوٹل پر نرمی سے حالات کشیدہ ہو گئے جس سے مری میں خوف وہراس پایا جا رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں