چیئرمین الطاف شکور 32

 مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک نے دو قومی نظریے کو درست ثابت کر دیا ہے

کراچی پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کی آڑ میں مسلمانوں پر ظلم و جبر کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔اقلیتوں سے امتیازی سلوک شرمناک ہے، عالمی دہشت گرد انڈیا کو نکیل ڈالی جائے۔ طاقت کے نشے میں چورانڈیا، کشمیر اور بھارت کے دیگر حصوں میں بسنے والے نہتے اور بے گناہ مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھانے سے باز آجائے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے جسمانی تشدد کے علاوہ معاشرتی و معاشی بائیکاٹ کی خبریں تواتر کے ساتھ آرہی ہیں۔پاکستان کے مسلمان اپنی آزادی کی قدر کریں،آزادی کی قدر جاننی ہو اوردو قومی نظریہ کو سمجھنا ہو تو وہ بھارتی مسلمانوں کو دیکھ کر سبق حاصل کریں۔بھارت کے سیکولر ازم کے دھوکے کا شکار وہاں رہ جانے والے ہمارے مسلمان بھائی آج بھی انڈیا میں متعصب ہندوؤں کے ظلم کا شکا رہیں اور ہم یہاں آزادی کی قدر کرنے کے بجائے تفرقہ بازی، مسلک اور دوسرے اختلافات میں پھنسے ہوئے ہیں۔بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر پاکستانی حکومت کی خاموشی ناقابل فہم ہے۔ حکومت جس طرح کورونا سمیت ملک کے اندرونی معاملات کو سلجھانے اور سنبھالنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے اسی طرح دفاعی معاملات، حکمت عملی اور خارجہ پالیسی میں بھی کارکردگی صفر ہے۔ اس وقت ملک کو ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ملک میں پاکستانی عوام کے  حقوق اور بیرون ملک پاکستانیوں اور مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کرے۔پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے بھارت و مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر طویل عرصہ سے جاری بھارتی حکومت، بھارتی فوج اور انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے کئے جانے والے ظلم و بربریت کے رد عمل پر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا میں متعصب ہندوؤں اور مودی سرکار کا مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد اور ظلم وستم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ ایک ہزار سال سے زائد عرصہ ساتھ رہنے کے باوجود کچھ متعصب ہندوؤں نے مسلمانوں کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔اس قدر ظلم کے باوجود کورونا کی وبا میں ہندوستان کے مسلمان بلا امتیاز مذہب سب کی مدد کر رہے ہیں جبکہ کورونا کے علاج میں ہندوستان میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر عالمی برادری کی خاموشی نے دو قومی نظریے کی اہمیت کو صرف علاقائی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی درست ثابت کر دیا ہے۔دہشت پسندی کا ہوا کھڑا کر کے مغربی ممالک نے ہندوؤں کو مسلمانوں پر ظلم کرنے کی کُھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ مسلم حکمرانوں نے بے حسی اور بزدلی کی روش کو برقراررکھا تو مسلم سول سوسائٹی خود میدان عمل میں آکر اقدامات کر ے گی۔ا الطاف شکور نے کہا کہ جب ریاست اپنے ہی اقلیتی شہریوں کے خلاف متعصبانہ قانون سازی کرے اور ان سے جینے کا حق چھین لے تواس ظلم و جبر کے خلاف پر عزم جدو جہد کا اخلاقی جواز پیدا ہو جاتاہے۔ مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں نے برصغیر میں کئی نئی ریاستوں کے قیام کا جواز پیدا کر دیا ہے۔پاکستانی رائے عامہ کو اخلاقی حمایت کے لئے تیار رہنا چاہئیے#

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں