اخبارات 35

حکومت کا اخباری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن، 6000 اخبارات بند

حکومت کا اخباری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن، 6000 اخبارات بند پاکستان میں رجسٹرڈ اخبارات اس وقت لگ بھگ 40 ہزار سے زیادہ ہیں، ان میں 99 فیصد اخبارات ڈمی ہیں۔ یہ اخبارات قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔ قانون یہ ہے کہ اگر سرکاری اشتہارات دئیے جائیں گے تو نیشنل نیوزپیپرز کے ساتھ ریجنل نیوز پیپرز کو بھی اشتہارات دئیے جائیں گے۔ حکومتی اشتہارات ہر سال 3 سے 4 ارب کے ہوتے ہیں۔اور 3 سے 4 ارب انہی کو جاتے ہیں اور عوام کا پیسہ ان ڈمی اخبارات کو شفٹ ہوجاتا ہے۔اسلئے حکومت نے فیصلہ کیا کہ ایسے اخبارات جن کی سرکولیشن ٹھیک ہے انہیں بحال رکھا جائے گا، باقی سب کو ڈی نوٹیفائی کردیا جائے گا۔ حکومت نے 6000 اخبارات کو ڈی نوٹیفائی کردیا ہے جبکہ باقی اخبارات کو حکم دیا گیا ہے کہ 15 اپریل تک جو نیوزایجنسی 2002 کے مطابق جو اخبار ریکوائرمنٹ پوری کرے گا وہ اخبار رہے گا باقی اخبارات کو ختم کردیا جائے گا۔ وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 4200 اخبارات رجسٹرڈ ہیں جبکہ باقی جو صوبوں یا ضلعوں میں ہیں انکی تعداد الگ ہے۔ یہاں میڈیا ورکرز کو تنخواہیں نہیں ملتیں لیکن یہ اشتہاری مافیا حکومتوں کو لوٹتا ہے۔ اس کرپشن میں پی آئی ڈی کا سٹاف بھی بڑی تعداد میں ملوث ہوتا ہے, یہ اخباری مافیا اور ڈمی اخبارات مالکان کیسے بلیک میلنگ کرتے ہیں اور کیسے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں۔اور تمام ایسے فرضی،جعلی ، غیر رجسٹرڈ اخبار،یوٹیوب چینل، واٹس ایپ گروپوں اور فیس بک پیج میں ڈمی فرضی نام استعمال کرنے والوں خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے، مقدمات درج کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں