اجمل بلوچ صدر آل پاکستان انجمن تاجران 22

ملک میں لاک ڈاﺅن مرحلہ وار ختم کا جا سکتا ہے ، اجمل بلوچ صدر آل پاکستان انجمن تاجران

اسلام آباد کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاﺅن ہے ،حکومت کو چاہیے کہ وہ مرحلہ وار لاک ڈاﺅن کھولے ، تاکہ تاجران اور عوام کی مشکلات میں تھوڑی آسانی ہو ، مکمل لاک ڈاﺅن کے باعث ہر طبقہ کے لوگ اس وقت مالی مسائل سے دو چار ہیں ، عوام اور تاجر برادری کو مالی مسائل کے ساتھ ساتھ دیگر مشکلات کا بھی سامنا ہے ، ان خیالات کا اظہار آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے بدھ کے روز نیشنل پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کی ، جس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کے باعث پیدا ہونے والے حالات کو مدنظررکھتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ملک میں مرحلہ وار لاک ڈاﺅن کھولا جائے ، پہلے مرحلہ میں تمام صوبائی حکومتیں اپنے تمام شہروں کے داخلی و خارجی راستوں کو عام آمدورفت کیلئے بند کر کے 14 اریل رات 9 بجے کے بعد تمام مارکیٹیں اور بازار کھول دیں ، مارکیٹوں کے اوقات کار 9 بجے صبح تا 5 بجے شام رکھے جائیں ، مارکیٹوں اور بازاروں میں مقامی افراد کو خریداری کی اجازت دی جائے، انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس بارے وضع کردہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی ، انتظامیہ کی جانب سے جاری کر دہ قواعد وضوابط پر عمل درآمد کرتے ہوئے مقامی گاہکوں کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھی جائیں بیرون شہر کے بیوپاری آن لائن بینکنگ کے ذریعے اپنے کاروبار کریں ، گڈز ٹرانسپورٹ پہلے سے کھلی ہوئی ہے ، مال کی بکنگ کوئی مسئلہ نہ ہو گا ، اجمل بلوچ نے کہا کہ ضلعی انتطامیہ اپنی شہری حدود میں کرونا وائرس کے تمام تر احتیاطوں پر عمل کروائے ، اگر کسی شہر یا کسی علاقے میں کورونا کیس سامنے آتے ہیں تو اس علاقے یا شہر میں محدود پیمانے پر لاک ڈاﺅن جاری رکھے ، اگلے مرحلے میں ہفتہ وار بیاد پر انہی اصولوں کو اپناتے ہوئے ضلعی حدود تک لاک ڈاﺅن کھول دیں ، تیسرے مرحلے میں ڈویژن اور پھر اس سے اگلے مرحلے میں ہفتہ وار جائزہ لیتے ہوئے مکمل صوبہ بھی کھول دیا جائے ، آخری مرحلہ میں پورا پاکستان کھول دیا جائے، اس دوران اگر کسی علاقے میں وائرس کیس سامنے آئے تو محدود پیمانے پر لاک ڈاﺅن کیا جائے ، انہوں نے تاجر برادری کے حوالے سے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے چھوٹے تاجروں کیلئے کسی پیکج کا اعلان نہ کیا گیا ہے ، حکومت کو چاہئے کہ وہ چھوٹے تاجروں کیلئے بلا سود ایک سے پانچ لاکھ کے قرضے کا اعلان کرے اور دو دو ماہ کے کرایہ معاف کرانے کے احکامات جاری کرے ، تاکہ تاجر اپنے ملازمین کو تنخواہیں بروقت ادا کرسکیں ، حکومت بجلی سوئی گیس کے بلوں میں سبسڈی بھی دے اور حکومت آئی ایم ایف کی جانب سے لگائی جانے والی شرائط کو ختم کرے اور پوائنٹ آف سیل کے نوٹس واپس لے اور 15 اپریل سے تاجر برادری کو تجارت کرنے کا موقع فراہم کرے تاکہ معیشت کا پہیہ فوری طور پر بحال ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں