اسلام آباد ،فاطمہ ٹاؤن 47

اسلام آباد ،فاطمہ ٹاؤن کی انتظامیہ کیخلاف3مقدمات درج،برانچ منیجرگرفتار

اسلام آباد بے گھرافرادکو پلاٹ دلانے کا جھانسہ دیکرانہیں ان کی جمع پونجی سے محروم کرنے والی سوسائٹی فاطمہ ٹاؤن کی انتظامیہ کے خلاف وفاقی پولیس نے فراڈ کے تین مقدمات درج کرکے سوسائٹی انتظامیہ کے فرنٹ مین کوگرفتارکرلیاہے جبکہ سوسائٹی کے ہاتھوں ڈسنے والے ایک اورشہری نے بھی تھانہ شالیمار میں پلاٹوں کی مد میں ایک کروڑ سے زائدرقم کے فراڈ کی نئی درخواست دیدی ہے۔اسلم بزنس اسکوائرسیکٹرای الیون ٹواسلام آباد میں رئیل اسٹیٹ کے بزنس سے وابستہ شہری چوہدری لیاقت علی چیمہ نے تھانہ شالیمار پولیس کو تحریری درخواست دیتے ہوئے موقف اختیارکیاہے کہ حاجی گلزار اعوان، فیصل اسلم، حاجی طفیل، طاہراورمس معافیہ نے اپنے آفس کیپٹل بزنس سنٹرایف ٹین مرکز میں فاطمہ ٹاؤن سوسائٹی جوکہ جعلی اورفرضی ہے کے پلاٹ فروخت کرتے ہیں سائل کو فاطمہ ٹاؤن سوسائٹی موضع بھنگو تحصیل فتخ جنگ میں سات پلاٹ خریدے اورتمام رقم اداکردیئے۔ میرے باربار اصرار کرنے پر ملزم فیصل اسلم نے کہاکہ مذکورہ پلاٹس 26جون2018ء تک ٹرانسفرمعہ قبضہ دیں گے اس حوالے سے ایک اقرارنامہ بھی تحریر کرکے دیا۔جب یہ تاریخ گزرگئی توفیصل اسلم نے کیپٹل بزنس سنٹرفاطمہ ٹاؤن سوسائٹی برانچ میں مجھے حاجی گلزار اعوان کی ہدایت پر چار پلاٹس کی جعلی اورفرضی انتقال اورفردتیارکرکے اس پر اپنی مہراوردستخط کے ذریعے تصدیق کرکے میرے حوالے کئے جوکہ میں نے متعلقہ تحصیل آفس سے چیک کروایاتویہ فرد جعلی نکل آئے۔اس کے بعد میں نے متعلقہ ٹی ایم اے فتح جنگ دفترسے پتہ کروایاتومعلوم ہواکہ یہ سوسائٹی بھی جعلی اورفرضی ہے۔درخواست میں مزیدکہاگیاہے کہ مالک سوسائٹی حاجی گلزاراعوان، فیصل اسلم برانچ منیجر،طاہر،حاجی طفیل اورمس معافیہ کے خلاف جعلی اورغیرقانونی سوسائٹی چلانے، جعلی اورفرضی انتقال تیارکرکے دھوکہ دہی اورفراڈ سے سائل کے 44لاکھ62ہزار روپے ہڑپ کرنے پر قانونی کارروائی کی جائے۔اس درخواست پردو مارچ کو تھانہ شالیمار کے تفتیشی آفیسر اظہربھٹی نے حاجی گلزار اعوان کو تھانے طلب کیا۔جس پر وہ اپنے ملازمین اورگارڈز کے ہمراہ تھانے آیااورصفائیاں پیش کرتارہا۔تاہم سوسائٹی کا منیجرفیصل اسلم فراڈ کیس میں پہلے ہی اڈیالہ جیل میں ہے۔متاثرہ شہری چوہدری لیاقت کے مطابق میں نے فاطمہ ٹاؤن کے 18پلاٹس خریدے تھے اور ایک کروڑ روپے سے زائدرقم ادا کرچکاہوں۔لیکن نہ توزمین ہے اورنہ ہی پلاٹ موجودہیں۔فاطمہ ٹاؤن سوسائٹی کے کرتادھرتاؤں کے خلاف اس وقت تھانہ رمنامیں ایک مقدمہ نمبر95/20،تھانہ گولڑہ شریف میں دومقدمات 101/20اور74/20درج ہیں جبکہ تھانہ شالیمار میں دی گئی یہ نئی درخواست تھی۔اسی طرح سوسائٹی کے منیجرکی طرف سے دیئے گئے چارمزید بوگس چیک بھی عنقریب قانونی کارروائی کے لئے متعلقہ پولیس کو دی جارہی ہیں۔تھانہ رمنامیں درج مقدمہ نمبر95/20کے مدعی مقدمہ لیاقت علی نے موقف اختیارکیاہے کہ برانچ منیجر فاطمہ ٹاؤن فیصل اسلم نے سائل کو پانچ مرلہ کے سات پلاٹس 212,211,210,209بلاک بی اور 8,9,10 بلاک نمبرڈی فروخت کئے اور34 لاکھ64 ہزار روپے کی رقم وصول کرلی۔سائل کے باربار اصرار پر برانچ منیجرفاطمہ ٹاؤن فیصل اسلم نے پلاٹس کی انتقال اور فرد دینے کا وعدہ کیااورتحریر بمعہ 34 لاکھ64 ہزار کاچیک دیا۔یہ چیک سنہری بینک جی الیون مرکز سے ڈس آنر ہوگیا۔ایف آئی آر میں مزید ذکر کیاگیاہے کہ فاطمہ ٹاؤن سوسائٹی جعلی بوگس سوسائٹی ہے جوکہ لوگوں کے ساتھ فراڈ کررہی ہے جس کامالک حاجی گلزار اعوان ہے اورمختلف شہروں میں فاطمہ ٹاؤن سوسائٹی کے بوگس دفاترکھلے ہوئے ہیں اورسادہ لوح شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔استدعاہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔اسی طرح محمداکرم نامی پراپرٹی ڈیلرنے بھی فاطمہ ٹاؤن کے برانچ منیجرفیصل اسلم کے خلاف تھانہ گولڑہ شریف میں چیک ڈس آنرکے دوالگ الگ مقدمات درج کرارکھے ہیں۔پہلا مقدمہ دس فروری 2020ء کو مقدمہ نمبر74/20بجرم489ایف درج کیاگیا جبکہ20ٖفروری کو دوسرا مقدمہ نمبر101/20بجرم489 ایف درج کرایاگیا۔متاثرہ شہری محمد اکرم کو پلاٹوں کا جھانسہ دیکر 66 لاکھ روپے سے محروم کیاگیا۔فاطمہ ٹاؤن کے برانچ منیجرملزم فیصل اسلم اس وقت اڈیالہ جیل میں ہے۔جس کی متعلقہ عدالت سے ضمانت بھی منسوخ ہوچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں