53

عدالتی بیلف کا چھاپہ،کورٹ میرج کرنے والی لڑکی بازیاب، دوبارہ والدین کے حوالے

اسلام آباد کورٹ میرج کرنے والی بیس سالہ لڑکی کو عدالتی بیلف نے والدین کے گھر واقع میڈیا ٹاؤن سے بازیاب کرالیا۔بعدازاں عدالتی حکم پر لڑکی کو دوبارہ اپنے والدین کے ساتھ بھجوا دیا گیا۔دس فروری سوموار کے روز گوجرخان کے رہائشی سونیل مجید نامی نوجوان نے اپنے وکیل کے ذریعے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد سیدفیضان حیدرگیلانی کی عدالت میں درخواست دائر کی کہ سائل نے 9 جولائی2019ء کو مریم محمود کے ساتھ شریعت محمدی کے تحت نکاح کیا ہے۔یہ نکاح راولپنڈی کچہری میں ہوا۔جس کے بعد مریم محمود چونکہ یونیورسٹی کی طالبہ ہے اور اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی تھی اس لئے نکاح کے بارے میں نہ اس نے اور نہ ہی سائل نے اپنے والدین کو آگاہ کیا۔دس روز قبل مریم کے گھروالوں کو اس نکاح کے بارے میں علم ہوگیا جس کے بعد اسے گھر میں قید کر دیاگیا اور اب اس پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔اس درخواست پر عدالتی حکم پر بیلف نے لڑکی کے گھر واقع میڈیا ٹاؤن ہاؤس نمبر398، سٹریٹ 16 بلاک اے راولپنڈی پر چھاپہ مارا اور لڑکی کو بازیاب کرکے عدالت میں پہنچایا۔جہاں لڑکی کے گھروالے اور قریبی عزیز بھی پہنچ گئے۔بعدازاں لڑکی نے عدالت کے روبرو بیان دیاکہ وہ عاقل اوربالغ ہے۔اس نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے اوراپنے خاوند کے ساتھ رہناچاہتی ہے۔تاہم عدالت نے لڑکی کو والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔اس موقع پرلڑکی کے خاوندسونیل مجیدنے ”الشرق“ کوبتایاکہ میری بیوی کی جان خطرے میں ہے۔اس کے گھروالے اورقریبی عزیزمسلسل مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔متاثرہ نوجوان نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے اورتحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں