pm-iftatah 62

وزیراعظم عمران خان نے بین المذاہب ہم آہنگی کے جذبہ کے عکاس کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کردیا

وزیراعظم عمران خان نے سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک دیو جی کے 550ویں جنم دن کے موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی کے جذبہ کے عکاس کرتارپور راہداری کے فقید المثال منصوبہ کا ہفتہ کو باضابطہ افتتاح کردیا۔ سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ، بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن(ر) امریندر سنگھ اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو سمیت بھارت سمیت دنیا بھر سے بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کےلئے کرتار پور آئے سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی جنہوں نے فراخدلانہ انداز میں وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور دعائیں دیں۔ جنم دن کی تقریبات میں 10 ہزار سے زائد سکھ یاتری شریک ہیں۔ کرتارپور راہداری کے افتتاح کے بعد اب روزانہ5 ہزار سکھ یاتری گورودوارہ دربار صاحب کی یاترا اور وہاں اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں گے۔ یہ شاندارمنصوبہ خطہ میں قیام امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کےلئے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر شروع کیا گیا اوراس کےلئے فنڈز مکمل طور پر پاکستان نے فراہم کئے ہیں اور یہ سکھ برادری کےلئے ایک تحفہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے راہداری کے افتتاح اور گوروجی کے جنم دن کے موقع پر پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کو ہر ممکن سہولت کی فراہمی کے لئے پاسپورٹ کی شرط عارضی طور پر ختم کر دی ہے جبکہ 2 دن کیلئے سروس چارجز کی بھی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس راہداری کا مقصد سکھ برادری کو پاک ۔ بھارت سرحد سے محض 4.7 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع گردوارہ دربار صاحب کی یاترا میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ یاتریوں کی سہولت کیلئے حکومت پاکستان نے خصوصی ٹرینیں بھی چلائی ہیں۔ اس موقع پر سکیورٹی کے بھی خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کرتارپور گوردوارہ میں سکھ یاتریوں کی رہائش کیلئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں اور کمپلیس کے اندر لنگر خانہ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ یاتریوں کی بائیو میٹرک رجسٹریشن کیلئے کاﺅنٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان نے تقریباً 800 ایکڑ اراضی حاصل کرکے گوردوارہ کی انتظامیہ کو تحفہ کے طور پر دی ہے اس میں سے 42 ایکڑ اراضی گوردوارہ کمپلیکس کی تعمیر کیلئے مختص کی گئی ہے جبکہ 62 ایکڑ اراضی لنگر خانہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہو گی۔ کمپلیکس کے احاطہ میں ایک میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں پر سکھ برادری کے مذہبی رہنماﺅں کی تصاویر اور سکھ مذہب کی تاریخ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے 12 بستروں کا ہسپتال بھی قائم کیا گیا ہے۔ کمپلیکس کے اندر سکیورٹی کی صورتحال پر نظر رکھنے کیلئے تقریباً 250 کیمرے نصب کئے گئے ہیں جبکہ 1500 اہلکار یاتریوں کی سہولت کیلئے فرائض انجام دیں گے۔ یاتریوں کی سہولت کیلئے منی ایکسچینج آﺅٹ لیٹ اور سووینیئر شاپس بھی قائم کی گئی ہیں۔ باباگورنانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کیلئے آنے والے سکھ یاتریوں نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کا یہ احسان کبھی نہیں بھلا سکتے، دنیا میں بسنے والے ہر سکھ کے دل میں گورو دھرتی کی محبت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور ہر کوئی کرتارپور یاترا کےلئے بے چین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کےلئے کسی جنت سے کم نہیں، کرتارپور صاحب کے درشن کرکے آنکھوں کو سکون محسوس ہو رہا ہے، اتنی قلیل مدت میں ہونے والے شاندار تعمیر دنیا میں کسی عجوبے سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو جو مذہبی آزادی حاصل ہے وہ کسی دوسرے ملک میں نہیں، سکھوں کےلئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کاوشوں کو کبھی فراموش نہےں کیا جا سکتا۔550 ویںجنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری سکھوں کےلئے ایک انمول تحفہ ہے، ہمارے تمام گوردواروں کو سجایا گیا ہے جبکہ گوردوار جنم استھان کی خوبصورتی دیدنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیار و محبت بانٹے میں پاکستان اور مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں