awan 86

وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان نے گلوبل وارمنگ میں ٹرانسپورٹ کی مقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے تدارک کیلئے الیکٹرک وہیکل پالیسی تشکیل دی ہے جس کی کابینہ نے منظوری دیدی ہے۔ اس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ عوام کو سستی ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر آئے گی، فیول کی مد میں ہونے والے اخراجات میں کمی آئے گی، زرمبادلہ کی بچت ہو گی، نئی صنعت کو فروغ ملے گا، ملک میں 3 ہزار سے زائد بند پڑے سی این جی سٹیشنوں کو الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنوں میں تبدیل کرینگے۔ منگل کو پی آئی ڈی میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کل کے پاکستان کے بارے میں سوچتے ہوئے الیکٹرک وہیکل پالیسی کی منظوری دی ہے۔ دنیا میں گلوبل وارمنگ میں 20 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ کی آلودگی کی وجہ سے ہے جبکہ پاکستان میں یہ حصہ چالیس فیصد ہے اس کے تدارک کیلئے دنیا میں یہ پالیسی بن رہی ہے۔ پاکستان نے بھی اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی الیکٹرک وہیکل پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا آج ہم نے یہ ٹاسک پورا کرتے ہوئے اس پالیسی کی کابینہ سے منظوری لی ہے۔ اس سے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی واقع ہو گی، لاہور سمیت دیگر شہروں میں پڑنے والی دھند کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی۔ عام رکشے اور موٹر سائیکل کے مقابلے میں الیکٹرک رکشہ اور موٹر سائیکل سے آلودگی 70 فیصد کم ہو گی۔ یہ سستی ٹرانسپورٹ ہو گی جبکہ اس سے اخراجات میں کمی آئے گی۔ یہ عوام کیلئے فائدہ مند ہو گی جبکہ امپورٹ بل میں پاکستان سب سے زیادہ تیل پر خرچ کرتا ہے اس سے زرمبادلہ کی بچت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے نئی صنعت کو فروغ ملے گا۔ موجودہ رکشے اور موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک پر تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ چین دنیا میں سب سے زیادہ الیکٹرک وہیکلز استعمال کرنے والا ملک ہے تاہم وہاں پر بننے والی گاڑیاں لیفٹ ہینڈڈرائیو ہیں گاڑیاں بنانے کیلئے نجی شعبہ کو آگے لائیں گے اور انہیں مراعات دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چارجنگ انفراسٹرکچر قائم ہونے سے ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں گے، تین ہزار بند پڑے ہوئے سی این جی سٹیشنوں کو الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ لاہور کی ایک کمپنی بیٹریاں لیز پر دینے میں دلچسپی رکھتی ہے اس پالیسی سے نئے کاروبار کے مواقع میسر آ سکیں گے۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ اس پالیسی سے نہ صرف صاف ستھری ٹرانسپورٹ میسر آئے گی بلکہ کاروبار اور ملازمت کے مواقع نکلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں اس حوالے سے بہت سا کام ہو چکا ہے وہ لوگ پالیسی کے منتظر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا ہدف ہے کہ 2030ءتک 30 فیصد نئی گاڑیاں بجلی پر چلائی جائیں، پہلے مرحلے میں ایک لاکھ گاڑیاں، موٹر سائیکل متعارف کرائے جائیں گے۔ اس حوالے سے ایک بین الوزارتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو اس کا ایکشن پلان بنائے گی۔ اس کیلئے مراعات کا تعین کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے خصوصی اقتصادی زون پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی جہاں بننے والی گاڑیاں نہ صرف ملکی ضرورت بلکہ برآمد بھی کی جا سکیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں