imran-khan 74

کشمیریوں کا سفیر اور ترجمان ہوں، ساری دنیا میں وکیل بن کر ان کی وکالت کروں گا، وزیراعظم عمران خان کا گلگت میں یوم آزادی پریڈ سے خطاب

گلگت وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کے عوام کو یوم آزادی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے قربانی دے کر اپنا علاقہ ڈوگرہ راج سے آزاد کرایا، یہ علاقہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا گیٹ وے ہے’ دنیا میں گلگت بلتستان سے زیادہ خوبصورت کوئی علاقہ نہیں’ ہم نے سیاحت کے فروغ کے لئے دنیا کے70ممالک کے سیاحوں کے لئے ویزہ کو آسان بنادیا ہے، سیاحت کے فروغ سے علاقے میں خوشحالی آئے گی’ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں اپنا آخری پتہ کھیل لیا ہے، دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آزادی کا راستہ نہیں روک سکتی’ جیسے ہی کرفیو اٹھے گا انسانوں کا سمندر باہر نکل کر آزاد مانگے گا ‘ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔کشمیریوں کاسفیر اور ترجمان ہوں ساری دنیا میں وکیل بن کر ان کی وکالت کروں گا۔ وزیراعظم گلگت میں یوم آزادی پریڈ سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ 1947ء میں گلگت بلتستان کے لوگوں نے آزادی کی جنگ لڑی اور 1948ء میں ڈوگرہ راج سے اپنے علاقے کو آزاد کرایا ۔1947ء کے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلمہ کی طاقت ہمیں انسانوں کے سامنے جھکنے نہیں دیتی، پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا، مدینہ کی ریاست ہمارے لئے ایک مثال ہے اور اس ریاست نے بھی دنیا کی بڑی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا ‘ پاکستان اللہ تعالیٰ کا ایک خاص تحفہ ہے، ہم نے انہیں اصولوں پر چلنا ہے جس پر مسلمان ایک عزیم قوم بنے تھے۔ عدل وانصاف کے نظام کے قیام سے معاشرے میں برکت آئے گی اور یہی نظام مدینہ کی ریاست کا بنیادی اصول تھا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان چین پاکستان اقتصادی راہداری کا گیٹ وے ہے ‘ چین دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے اور یہ علاقہ ہمیں چین کے ساتھ ہمیں ملاتا ہے’ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ گلگت بلتستان کے یوم آزادی پر یہاں موجود ہوں، یہاں کے لوگوں نے اپنی آزادی کے لئے بہت قربانیاں دی۔ مقبوضہ کشمیر میں عوام آج ظلم کا شکار ہے ‘ نریندر مودی نے 5 اگست کو جو کچھ کیا ہے اس نے اپنا آخری پتہ کھیل لیا ہے اب جیسے ہی کرفیواٹھے گا انسانوں کا سمندر باہر نکل کر آزادی مانگے گا، کوئی طاقت اب کشمیر کو آزاد ہونے سے نہیں روک سکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 52 سال پہلے پہلی مرتبہ گلگت بلتستان آئے تھے تب اس علاقے میں اتنی ترقی نہیں تھی، انہوں نے ساری دنیا دیکھی ہے لیکن جو خوبصورتی گلگت بلتستان میں ہے وہ اور کہیں نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو سیاحت کے لئے کھول دیا ہے، 70ممالک سے آنے والے سیاحوں کو ویزے اب ایئر پورٹ پر ملیں گے، کئی علاقوں میں این او سی کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے اس سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور اس سے علاقے میں خوشحالی آئے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تین مہینے سے کرفیو نافذ ہے، 9 لاکھ بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، ان کے بنیادی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں۔ وزیرعظم نے کہا کہ وہ کشمیریوں کے سفیر اور ترجمان ہیں اور ساری دنیا میں ان کا سفیر اور وکیل بن ان کی وکالت کریں گے۔ وزیراعطم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام اگر آزادی کی جنگ نہ لڑتے تو ہو سکتا ہے وہ بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی طرح مشکلات کا سامنا کررہے ہوتے۔ نادرن لائیٹ انفنٹری کے جوانوں نے کارگل اور دوسرے محاذوں پرناقابل فراموش قربانیاں دیں، پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر ملک کو محفوظ بنایا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے اور یہی قوم دنیا میں ایک مثال بنے گی۔ قبل ازیں وزیراعظم نے یادگار شہداء پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔ اس موقع پر پاک فوج کے چاک و چوبند دستوں نے وزیراعظم پاکستان کو سلامی دی۔گورنر گلگت بلتستان اور وزیراعلیٰ گلگت بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں