18

سویابین کے جہاز سے 2پاکستانی مزدوروں کی لاشیں ملی ہیں

کراچی بندرگاہ پر لنگر انداز سویا بین کے جہاز پر 2 پاکستانی مزدوروں جاں بحق ہوگئے۔ حکام کے مطابق جہاز سے سویا بین اتارنے کا کام ہورہا تھا، ریسکیو آپریشن جاری ہے، پورٹ خالی کرالیا گیا۔

ایس ایس پی کیماڑی فدا حسین جانوری نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی پورٹ پر لنگر انداز غیر ملکی جہاز سے سویا بین اتارنے کا کام جاری تھا، اس دوران جہاز سے دو پاکستانی مزدوروں کی لاشیں ملی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پورٹ انتظامیہ کی جانب سے اطلاع ملنے پر پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور لاشیں تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کی جارہی ہیں۔

پولیس کے مطابق جاں بحق مزدوروں کی شناخت اسلم اور محمد حسن کے ناموں سے ہوئی ہے، دونوں کا تعلق ضلع بدین سے ہے۔

مزید جانیے: کیماڑی میں زہریلی گیس سے ہلاکتیں 14 ہوگئیں، وزارت صحت

ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ مزدور کا انتقال دم گھٹنے سے ہوا ہے البتہ موت کی اصل وجہ کی تصدیق پوسٹ مارٹم کے بعد ہوگی۔

ڈپٹی کمشنر کیماڑی مختار ابڑو نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے، سانس لینے میں دشواری کی وجہ سے ریسکیو کے عملے کو جہاز خالی کرانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا کیماڑی میں مہلک گیس سویابین جہاز سے پھیلی؟

انہوں نے کہا کہ پورٹ کو عام لوگوں سے خالی کرالیا گیا، جہاز پر آکسیجن کی کمی ہے، مقامی انتظامیہ آکیسجن کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اپنی پوری کوشش کررہی ہیں۔

واضح رہے کہ فروری 2020ء میں بھی نامعلوم گیس پھیلنے سے 14 افراد جاں بحق ہوگئے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اموات کی وجہ ممکنہ طور پر سویا بین کی گیس بنی ہے۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں