29

حمایت کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کافیصلہ

جامعہ کراچی میں ہونے والے خودکش حملے کی سوشل میڈیا پر حمایت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کافیصلہ کرلیا گیا۔

ذرائع کے مطابق حملے کی حمایت کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے جن میں سے بیشتر اکاؤنٹس کی بیرون ملک سے آپریٹ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

دوسری جانب خودکش حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں خاتون بمبار جس رکشے میں جامعہ کراچی آئی اس کا سراغ مل گیا ہے۔ ڈرائیور رکشہ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش ہوگیا۔

رکشہ ڈرائیور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پنجاب کالونی سے خاتون کو بٹھایا اور جامعہ کراچی چھوڑا، خاتون سے400روپے کرایہ وصول کیا، خاتون کے بیگز میں کچھ سامان تھا مگر جیکٹ نہیں پہنی تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تفتیش کے بعد ڈرائیور کو چھوڑدیا۔

واضح رہے کہ کراچی یونیورسٹی میں منگل 26 اپریل کی دوپہر خودکش دھماکے میں 3 چینی باشندوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

 کراچی میں واقع سندھ کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ کراچی کے شعبہ کنفیوشیئس کے دروازے کے قریب گاڑی پر برقع پوش خاتون نے خود کش حملہ کیا، جس میں 3 چینی اساتذہ اور ایک ڈرائیور جاں بحق ہوگیا۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں