34

سستي بجلی؟

Slow electricity?

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مہنگے ترین تیل و گیس پر انحصار کے تناظر میں پاکستان اس وقت بجلی کی کل پیداوار کا 54فیصد انہی ذرائع سے حاصل کر رہا ہے جو کمزور معیشت پر انتہائی بوجھ کا باعث بنا ہوا ہے اور گردشی قرضے بلند ترین سطح پر ہیں دوسری طرف لائن لاسز (بجلی کی چوری) نے رہی سہی کسر بھی پوری کر رکھی ہے جس سے صارفین کویہ اوسطاً 25روپے فی یونٹ پڑ رہی ہے یہ صورتحال غریب ہی نہیں مڈل کلاس کے بس سے بھی باہر ہے۔ ملک کو تاحال بجلی کی ہائیڈرل محض 27فیصد پیداوار حاصل ہو رہی ہے اگر ماضی میں مناسب انتظامات کئے گئے ہوتے تو آج یہ استعداد طلب کے مقابلے میں رسد سے بھی بڑھ کر ہوتی۔ خوش قسمتی کہ چند برسوں سے کوئلہ، شمسی توانائی، ہوا اور جوہری توانائی بھی نیشنل گرڈ کا باقاعدہ حصہ بنے ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں کوئلے کے وسیع تر ذخائر دریافت ہوئے ہیں جن سے ممکنہ طور پر ہزاروں میگاواٹ برقی توانائی حاصل کئے جانے کی رپورٹیں بھی منظر عام پر چلی آرہی ہیں ۔ اس کے باوجود ملک کو روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ اس وقت ملک میںبجلی کی کل پیداوار کا 9فیصد کوئلے سے حاصل ہو رہا ہے تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز قومی گرڈ میں اس کے1320اور 660 میگا واٹ کے دو مزید منصوبے شامل ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ عالمی منڈی میں کوئلے کی قیمت 60 ڈالر سے بڑھ کر 300ڈالر فی ٹن تک چلی گئی ہے جبکہ صرف سندھ کے ضلع تھرپارکر میں کروڑوں ٹن کوئلہ موجود ہے جس سے بجلی کی پیداوار ی لاگت ٹیکنالوجی کے اخراجات اور تنخواہیں و اجرت نکال کر صفر سے زیادہ نہیں بنتی ۔ لہٰذامعیشت کے حق میں یہی بہتردکھائی دیتا ہے کہ تیل و گیس پر انحصار ختم کرتے ہوئے رفتہ رفتہ کوئلے، سولر، ہوا،جوہری توانائی اور پانی کے ذرائع بروئے کار لائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں