26

قومی اسمبلی میں فنانس سپلیمنٹری بل2021ء پیش کردیا گیا

قومی اسمبلی میں فنانس سپلیمنٹری بل 2021ء (منی بجٹ) پیش کردیا گیا، جس پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بحث کا آغاز کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عوام کی جیب خالی ہے تو یہ بجٹ جعلی ہے، قومی معیشت کو آئی ایم ایف کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور عمر ایوب نے فنانس سپلیمنٹری بل 2021ء پیش کیا۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے منی بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے حکومت پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بتادیا تھا منی بجٹ آئے گا اور مہنگائی ہوگی، حکومت کہتی تھی منی بجٹ نہیں آئے گا، منی بجٹ سے ہمارے پاؤں بيڑيوں ميں جکڑے جائيں گے، کہتے تھے عمران خان آئی ایم ایف کے آگے ڈٹ جائے گا، انہوں نے قومی معیشت کو آئی ایم ایف کی تحویل میں دیدیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کی جیب خالی ہے تو یہ بجٹ جعلی ہے، یہ مہنگائی اور لوگوں کو بیروزگار کرنے کا بجٹ ہے، یہ مہنگائی کو آسمانوں تک پہنچانے کا بجٹ ہے، 66 صفحات میں ہر صفحے پر مہنگائی، بے روزگاری لکھا ہے، پی ٹی آئی نے صرف يوٹرن لينے ميں مہارت حاصل کی ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ منی بجٹ ميں عوام پر 350 ارب روپے کا ٹيکس لگايا جارہا ہے، آج 7 ماہ بعد منی بجٹ بھی آرہا ہے اور ٹيکس بھی بڑھ رہے ہيں، حفيظ شيخ اور شبر زيدی نے 700 ارب روپے کے ٹيکس لگائے، شوکت ترين نے پہلے 300 ارب اور پھر 350 ارب کے ٹيکس لگادیئے۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ نہ يہ مری حادثے کو کنٹرول کرسکے، نہ گردشی قرضوں کو، کرونا نے انہيں 2 سال ريسکيو کيا، اس سے زيادہ منحوس حکومت نہيں آئی۔

قومی اسمبلی میں رویت ہلال کا نظام بہتر کرنے سے متعلق بل، جنگلی حیوانات و نباتات کی تجارت کنٹرول کرنے کا ترمیمی بل، پاکستان پیٹرولیم اپ اسٹریم ریگولیٹری اتھارٹی بل بھی پیش کردیا گیا جبکہ پاکستان نرسنگ کونسل ہنگامی انتظام آرڈیننس بھی ایوان میں پیش کیا گیا۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پر قائمہ کمیٹی خزانہ کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر کا اس پر کہنا تھا کہ غلط تاثر دیا گیا کہ کمیٹی ارکان نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی حمایت کی۔


Print Friendly, PDF & Email