Haneed Lakhani 26

دودھ کے سرکاری نرخ 94روپے جبکہ عوام 130 روپے فی کلو خریدنے پر مجبور ہیں ۔

کراچی:پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سربراہ بیت المال سندھ حنید لاکھانی نے شہر قائد میں دودھ کی قیمتوں میں من مانے اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری نرخ 94روپے ہے لیکن شہری 130روپے فی کلو دودھ خریدنے پر مجبور ہیں ، کراچی میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی سندھ حکومت نے منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اندھیر نگری چوپٹ راج والا معاملہ چل رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے حنید لاکھانی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کیا، حنید لاکھانی نے کہا کہ متعلقہ افسران اور انتظامیہ سمیت کمشنرز ، ڈپٹی کمشنر ز دودھ کی سرکاری نرخوں پر فروخت کو یقینی بنائیں اور منا فع خوروں کے خلاف قانونی کاروائی کریں ، کراچی میں یومیہ کروڑوں من دودھ کی کھپت ہے اور دس روپے کے من مانے اضافے سے دودھ فروش مافیا روزانہ کی بنیادوں پر عوام سے اربوں روپے بٹور رہی ہے جبکہ سندھ حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ہر شعبے کی مافیا کی بھرپور سرپرستی ہے کر رہی ہے جب ہی تو یہ منافع خور اپنی مرضی سے جب چاہے نرخ بڑھا دیتے ہیں اور جب چاہیں مارکیٹ سے چیزوں کو غائب کردیتے ہیں ، ایسا کیسے ہوسکتے ہے کہ مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش سرکاری مقر ر کردہ نرخوں سے زیادہ ریٹوں پر بیچی جارہی ہوں اور حکومتی نمائندوں کو اس کی خبر نہ ہو، سندھ حکومت کے وزراء اور افسران منافع خوروں سے اربوں روپے کمیشن لے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اتنی لوٹ مار کے باوجود بھی صوبائی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت دودھ فروشوں کے مطالبات سنے اور ان سے مذاکرات کرتے ہوئے جو بھی ان کے جائز مطالبات ہیں ان کو پورا کرنے کے لیئے اقدامات کرے اور دودھ کو سرکاری نرخوں پر بیچنے کے سخت ترین احکامات جاری کرے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور سخت سزائیں دے تا کہ منافع خور وں سے عوام کو نجات ملے ، انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں حکومت ہی منافع خوروں کی ہے تو عوا م کو منافع خوروں سے نجات کیسے مل سکتی ہے ۔