Chinese 14

چینی مارکیٹ سے غائب، گھی کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا سراج الحق

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ آئی ایم ایف کے احکامات پر رمضان المبارک اور سالانہ بجٹ سے قبل منی بجٹ حکومت کا انتہائی ظالمانہ اقدام ہے۔ چینی مارکیٹ سے غائب، گھی کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ حکومت یا تو مافیاز کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے یا ان کی سرپرستی کر رہی ہے۔ دونوں صورتوں میں حکمران ہی قصوروار ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ نامنظور۔ حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف عوام کو منظم کر رہے ہیں۔ملک میں طبقاتی تفریق کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ملک میں اسلام کا نظام نافذ ہوتا تو غریب اور امیر میں اتنی خلیج نہ ہوتی۔ صحت و تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے، مگر سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت زار دیکھنے کے قابل نہیں۔ تعلیم غریب کے بچے کی دسترس سے باہر، ہسپتالوں میں مریض رُل رہے ہیں۔ اگر فرصت ملے تو وزیراعظم اور ان کے وزیروں مشیروں کی فوج، گلیوں، بازاروں، چوکوں چوراہوں میں جا کر عام آدمی کی حالت دیکھیں۔ مدینہ کی ریاست کا دعویٰ کرنے والے چند روز کے لیے ہی حضرت عمر فاروقؓ کے طرزِ حکمرانی کی پیروی کر لیں تو ملک کے بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے۔ جماعت اسلامی معاشرتی برائیوں اور کرپٹ اشرافیہ کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ سودی معیشت مسائل کی اصل جڑ ہے۔ عوام کو قرآن و سنت کا نظام چاہیے۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور اس کو ایک نظریاتی جماعت ہی بہتر کر سکتی ہے۔ اس وقت جماعت اسلامی ہی واحد آپشن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے لاجبوک دیرپائین میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ جماعت اسلامی کے دیرپائین سے سابق ایم این اے صاحبزادہ یعقوب اور امیر ضلع اعزاز الملک افکاری بھی اس موقع پر موجود تھے۔
سراج الحق نے حکومت کو مزدوروں اور کمزور طبقات کو نشانہ بنانے اور انھیں کوئی ریلیف نہ دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزدور اور تنخواہ دار طبقہ موجودہ حالات میں سب سے زیادہ پریشان ہے۔ فیکٹریاں اور کاروبار بند پڑے ہیں۔ روزگار کے مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ حالات اسی طرح رہے تو ملک مزید تنزلی کی جانب جائے گا، مگر حکمرانوں کو اس کا کوئی ادراک نہیں۔ قرض پر قرض لینے کی پالیسی کو ترک نہ کیا گیا اور اسلامی معیشت کے اصولوں کو نہ اپنایا گیاتو حالات میں بہتری کی توقع نہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی سابقہ حکمرانوں کے طرزِ عمل کو نہ صرف من و عن اپنایا بلکہ اکثر معاملات میں نااہلی کے پرانے ریکارڈ بھی توڑ دیے۔انھوں نے کہا کہ رمضان المبارک سے قبل ہی ملک میں مہنگائی کا طوفان آ گیا ہے۔ امیر سود کے ذریعے سے غریبوں کا خون چوس رہے ہیں۔ مال دار اشرافیہ اور جاگیردار طبقہ غریبوں سے اس طرح خدمت لیتے ہیں گویا وہ ان کے غلام ہوں اور صرف ان کی خدمت کے لیے پیدا ہوئے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ حکمرانوں کے ظلم اور جبر کی وجہ سے لاکھوں لوگ پریشان ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت پچھلے ڈھائی برسوں میں کوئی بھی قابل تعریف منصوبہ متعارف نہیں کروا سکی۔
سراج الحق نے کہا کہ کے پی مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی تقریباً آٹھ برسوں سے صوبہ کی تقدیر کی مالک ہے، مگر اس دوران عوام کے مصائب کم ہونے کی بجائے ان میں اضافہ ہوا ہے۔ آج بھی کے پی میں صحت و تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سڑکوں کا برا حال ہے، بیشتر علاقوں میں ٹرانسپورٹ کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ غربت اور بے روزگاری صوبہ کے بڑے مسائل ہیں۔ لاکھوں نوجوان ڈگریاں پکڑے بے روزگار گھوم رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کی سیاست کا مقصد لوگوں کا تعلق اللہ اور اس کے رسولؐ سے جوڑنا ہے۔ ہم غلامانِ مصطفی کو اکٹھا کر کے نظام مصطفی کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ ہم خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے میدان عمل میں ہیں۔ جماعت اسلامی سیکولرازم کے خلاف ڈھال ہے۔ ہم استحکام خاندان اور استحکام پاکستان چاہتے ہیں۔