news long 81

شہری دفاع کا عالمی دن چترال میں منایا گیا۔

چترال(گل حماد فاروقی) ملک کے دیگر حصوں کی طرح چترال میں بھی شہری دفاع کا عالمی دن منایا گیا۔ اس سلسلے میں گورنمنٹ سینٹیل ماڈل ہائی سکول چترال میں ایک تقریب بھی منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں کثیر تعداد میں سکول کے طلباء نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سول ڈیفنس ڈے یعنی شہری دفاع کے تاریحی پس منظر پر روشنی ڈالی کہ دراصل رضاکارانہ خدمات کا سلسلہ ریاست مدینہ میں چودہ سو سال پہلے شروع ہوا تھا جو رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سول ڈیفنس کے رضاکار محتلف قدرتی آفات میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ہر گھر میں ضرور ایک رضاکار ایسا ہونا چاہئے تو باقاعدہ تربیت یافتہ ہو اور آگ لگنے، دریا میں کسی کا ڈوبنے، سیلاب آنے، برفانی تودہ گرنے وغیرہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورت حال میں دوسروں کی جان بچا سکے۔
مقررین نے کہا کہ چترال میں 2300 خواتین و حضرات رضاکارانہ طور پر شہری دفاع کا حصہ ہیں اور غیر معمولی حالات میں خود کو بچاتے ہیں اور دوسروں کا بھی مدد کرتے ہیں۔ تقریب سے غوث الرحمان، شعیب احمد، سکول کے پرنسل شاہد جلال نے اظہار حیال کیا۔ اس موقع پر سکول کے طلباء کو ہنگامی صورت حال سے نمٹنے میں استعمال ہونے والی مشینری اور سامان کا استعمال کرنے اور اسے کام میں لانے کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔
چیف وارڈن فاروق اقبال نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ وہ اور ان کا ٹیم بغیر کسی تنخواہ یا مراعات کے مفت میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں تاہم ہمارے رضاکاروں کو بعض اوقات نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان کے پاس نہ تو گاڑی ہے نہ کوئی فنڈ۔ انہوں نے حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ شہری دفاع کو مزید فعال بنانے کیلئے اس کیلئے فنڈ محتص کریت تاکہ اس کے رضاکار ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے کسی کا محتاج نہ ہو۔ اس تقریب میں ضلعی انتظامیہ کے کسی افسر یا نمائندے نے شرکت نہیں کی۔ بعد میں سکول کے طلباء نے سول ڈیفنس کے حوالے سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں ایک ریلی بھی نکالی جو اتالیق پل پر احتتام پذیر ہوئی۔