Shams-ur-Rehman Swati 94

مزدورں پر روزگار کے دروازے بند کیے جارہے ہیں شمس الرحمن سواتی

اسلام آباد :نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں رجسٹرڈ اور غیررجسٹرڈ مزدوروں کے لیے فلاحی پروگرام کا اعلان کرے، انہیں ایک ایسے نظام میں لائے کہ جہاں انہیں ہر ماہ گزارہ الاﺅنس مل سکے حکومت یہ نظام ملک میں غربت مکاﺅ پروگرام کے تحت ملنے والی عالمی اداروں کی فنڈنگ سے چلاسکتی ہے صرف اس کام کے لیے حکومت کی توجہ چاہیے، انھوں نے کہا پاکستان میں مزدور ہی مظلوم طبقہ ہے جس کی آواز پارلیمنٹ سمیت کسی بھی فورم پر نہیں اٹھائی جاتی جس کی وجہ سے آجر طبقہ طاقت ور ہوتا جارہا ہے ، جس کی وجہ سے مزدروں کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہورہے ہیں اور انہیں عزت کی زندگی گزارنے کا مواقعے میسر نہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد پر یس کلب میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کر تے ہو ئے کیا ۔
شمس الر حمن سواتی نے کہا عجیب بات ہے کہ این اے75 کے انتخابی نتائج کے خلاف دائر درخواست کا فیصلہ تو چند دنوں میں ہوگیا مگر اس ملک کے مزدورں کے چھینے گئے حقوق کے بارے میں قانون اور انصا ف خا موش ہے ،موجودہ حکو مت کی پالیسیوں کے باعث مزدورں پر روزگار کے دروازے بند کیے جارہے ہیں ان کے بچوں کی تعلیم اور صحت کے لیے سہولتیں میسر نہیں ہے مگر ملک کے پالیسی ساز اداروں میں اس پر آواز اُٹھا نے والا کو ئی نہیں ،آج ملک میں روزگار کی حالت یہ ہے کہ سڑکوں پر ہمیں ہر روز ہزاروں مزدور روزگار کی تلاش میں فٹ پاتھوں پر بیٹھے ہوئے مل جاتے ہیں مگر یہ سب شام کو کسی دہاڑی کے بغیر گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں،انھوں نے کہا نیشنل لیبر فیڈریشن اس ملک کے مزدوروں کو منظم کررہی ہے اور ان کے سماجی اور روزگار کے حقوق کے لیے ہر فورم پر ان کی آواز اٹھا رہی ہے۔