Murad Saeed 66

پاکستان پوسٹ کا خسارہ 60 ارب روپے تھا مراد سعید

اسلام آباد:وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ ایک ہزار ڈیجیٹل فرنچائز آفس مکمل ہوگئےہیں، جب قلمدان سنبھالا پاکستان پوسٹ کا خسارہ 60 ارب روپے تھا وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق کفایت شعاری، اخراجات میں کمی، خود احتسابی اور صارفین کے اعتماد کی بحالی کے عملی اقدامات کے تحت محصولات میں بھی اضافہ کیا اورمحکمہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اہم سنگ میل عبور کئے ڈیجٹل فرنچائز کا قیام اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال ہے اور 200 سے زائد سروسز میسر آئیںگی، اس وقت دس ہزار کے قریب لوگوں نے ڈیجیٹل فرنچائز کیلئے اپلائی کیا ہے اس سلسلے کو آگے لیکر جائیں گے آسامیاں دینے کے بجائے ادرے پر بوجھ کے بغیر تین لاکھ سے زائد لوگوں کو نوکریاں ملیں گی، یہ ہے وہ انقلاب اور تبدیلی جس کا تحریک انصاف نے عزم کر رکھا ہے۔ ان خیالات کا اطہار انہوں نے پاکستان پوسٹ کے زیر اہتمام ایک ہزار ڈیجیٹل پوسٹ آفسز کے قیام کی کامیابی کے حوالے سے پوسٹل سٹاف کالج میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں پاکستان پوسٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل اعجاز احمد منہاس نے وفاقی وزیر کو ڈیجیٹل فرنچائز کے قیام کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک بھر میں 10 ہزار پوسٹ آفسز کلیم کئے جاتے تھے چھان بین کے بعد پتہ چلا کہ ہمارے پاس 3 ہزار اپنے ڈاکخانے ہیں،دیہاتوں میں 22 ہزار ایسے ملازمین تھے جنکو پاکستان پوسٹ 1500 روپے دیتا تھا جن کے ذریعے وہ عارضی ڈاکخانے امام مسجد، سکول ٹیچر یا دکاندار کے ذریعے چلائے جا رہے تھے جس سے پاکستان پوسٹ کو آمدن کی بجائے اپنے پاس سے ادا کرنا پڑتے تھے جنہیں ڈیجیٹل فرنچائز پر آنے کا کہا ہے اور اب تک 10 ہزار درخواستیں آچکی ہیں، اس اقدام سے پاکستان پوسٹ کو ریونیو بھی ملے گا اور نجی شرکت داری سے ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور دیہی علاقوں کے پرانے نظام پر چلنے والے ڈاکخانوں کی جگہ ڈیجیٹل سہولیات سے آراستہ 200 اقسام کی جدید سروسز بھی میسر آئیں گی جو پہلے صرف چند شہروں تک محدود تھیں اور پاکستان پوسٹ کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوگا۔ مراد سعید نے کہا کہ ہم نے کفایت شعاری کی بات کی اور وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں کفایت شعاری پر زور دیا، عمران خان ملک کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے نہ کیمپ آفس کھولا اورنہ وزیر اعظم ہاوس میں رہے، ہم نے اس وژن پر عمل کرتے ہوئے پاکستان پوسٹ کے اخراجات میں کمی کی، املاک کو کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کرکے ریونیو کمایا جس سے خسارے میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان پوسٹ پہلے جیسا ادارہ نہیں جو ہمارے آنے سے پہلے ہوا کرتا تھا ہم نے صارفین کا اعتماد بحال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے اس کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر مواصلات نے کہا کہ ان ڈیجیٹل فرنچائزز پوسٹ آفسز میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہے جہاں 200 سے زائد سروسز ملیں گی، ہم نے پاکستان پوسٹ میں ٹریک اینڈ ٹریس شروع کیا پاکستان پوسٹ کی موبائل ایپ بنائی اور ارجنٹ میل سروس شروع کی اورپرائیویٹ کوریئر کے مقابلے میں اسی دورانیہ میںکم پیسوں پر ہماری یو ایم ایس سروس بہت بہتر سروس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے ای ایم ایس شروع کی اور بلا معاوضہ ان کی ترسیلات بھجوانے کا انتظام کرکے ملکی ترسیلات زر میں اضافے میں پاکستان پوسٹ نے اپنا کردار ادا کیا۔ہم نے الیکٹرانک منی آرڈر شروع کیا ہے، بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے سروس شروع کی، اور اب ہم ای کامرس پارٹنر شپ کی جانب بڑھ رہے ہیں جس کے لئے سرکاری نجی سرکت دار اتھارٹی سے منظوری لی جارہی ہے ۔ ہمارے پاس 1.4 ملین پنشنرز ہیں، تنخواہوں میں اضافے کا مالیاتی اثر 2 ارب روپے سے زائد کا ہے خسارے مین کمی کے اقدامات کی وجہ سے اس ادائیگی کے بعد بھی خسارہ نہیں بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ مختلف سروسزشروع کرنے سے ہمارے ریونیو میں بھی اضافہ ہوا ہے، جلد پاکستان پوسٹ لاجسٹک میں بھی جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فیٹف نے 40 آبزرویشن لگائیں جن میں سے 12 پاکستان پوسٹ پر تھیں ہم فیٹف کے ٹارگٹ پر عملدرآمد کیطرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جس ادارے کے ساتھ پاکستان کا نام لگا تھا تباہ کر دیا گیا ہم ان اداروں میں اصلاحات کے ذریعے تعمیر نو کر رہے ہیں ۔ خیبرپختواہ میں سرکاری ملازمین کو دس لاکھ تک کی انشورنس دی گئی ہے، اب پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں شروع کردی گئی ہے ہم پاکستان پوسٹ کے ملازمین کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں دس لاکھ تک علاج کی سہولت دیں گے، ہیلتھ انشورنس کی تجویز دراصل ہمارا وژن اور خواب ہے جسے پورا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ آٹھ سے نوہزار مزید ملازمین کی بھرتی کی ضرورت ہے لیکن میں نے انہیں جواب دیا کہ ہم نے ایک بھی ایسی بھرتی نہیں کرنی جو سیاسی بنیاد کی بھرتی ہو، اگر ریلوے ،پی آئی اے، پی ٹی وی کا خسارہ بڑھتا ہے تو عوام کی جیب سے یہ پیسہ نکالا جاتا ہے اور اداروں کے خسارے کیوجہ سے مہنگائی کا بوجھ عوام پر ہوتا ہے۔ مراد سعید نے کہا کہ ہم آٹھ ہزار آسامیاں نہیں بلکہ اس ڈیجیٹل پراجیکٹ کے تحت 3 لاکھ نوکریاں دیں گے۔اور یہ نوکریا قومی خزانے پر بوجھ نہیں بنیں گی۔ مراد سعید نے کہا کہ اس پراجیکٹ کت ذریعے تیس کروڑ کے اخراجات بھی بچیں گے جو ہم 22 ہزار افراد کو روزانہ کی بنیاد پر ادا کرتے ہیں۔