Female employees 70

خواتین ملازمین کے تحفظ کیلئے دفااتر میں الگ بیت الخلاء بنائے جائیں، وویمن ورکر الائنس

اسلام آباد: خواتین ملازمین کے اتحاد وویمن ورکر الائنس کی ارکین نے کہا ہے کہ خواتین ملازمین کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، تمام متعلقہ ادارے اور انسانی و خواتین کے حقوق کمیشن اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے خواتین ملازمین کے تمام جائز اور قانونی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائیں، خواتین ملازمین کے حالات کار کو سازگار بنانے کیلئے ای ویم کی مانیٹرنگ رپورٹ میں نشاندہی کردہ مسائل کا ازالہ کیا جائے، ملازمت کی تمام جہگوں پر جنسی ہراسانی کی شکایت کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے اور کمیٹی کے ارکان کی لسٹ بمعہ نام اور رابطہ نمبر نمایاں جگہ پر اردو اور انگریزی دونوں میں آویزاں کی جائے، خواتین ملازمین کی سہولت اور تحفظ کیلئے دفاتر میں الگ بیت الخلاء بنائے جائیں، ہر ادارے میں قانون کے مطابق ڈے کیئر کی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے، دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو دوران ڈیوٹی درپیش مسائل کے حوالے سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواتین ملازمین کے اتحاد وویمن ورکر الائنس کی اراکین زاہدہ پروین، مسرت جبین، منزہ، مہرنگار اور معروف صحافی فوزیہ شاہد کا تمام متعلقہ اداروں، انسانی و خواتین کے حقوق کے کمیشن پر زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے خواتین ملازمین کے تمام جائز اور قانونی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائیں،ای ویم نامی منصوبے کے تحت ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق ضلع اسلام آباد میں موجود فیکٹریوں، دفاتر اور دیگر اداروں میں کام کرنے والی خواتین ملازمیں کو قانوں اور طے شدہ کم از کم اجرت سے بھی کم معاوضہ دیا جاتا ہے جبکہ جائزہ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تراسی فیصد اداروں میں خواتین ملازمین کی سہولت کیلئے ڈے کیئر کی سہولیات موجود نہیں ہیں، ساٹھ فیصد اداروں میں جنسی ہراسانی کی شکایت کیلئے انکوائری کمیٹی کا وجود نہیں ہے، اکیس فیصد کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کیلئے علیحدہ بیت الخلاء موجود نہیں ہیں، بہتر فیصد اداروں میں خواتین کو زچگی کے دوران کوئی رعایت نہیں دی جاتی جبکہ تیتیس فیصد اداروں میں خواتین کو زچگی کے دوران چھٹیاں بھی نہیں دی جاتیں، انہوں نے مزید کیا کہ ۳۵ فیصد اداروں میں قانوں کے مطابق صحت کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں، پچھتر فیصد اداروں میں خواتین ملازمین ورکرز یونین یا ایسوسی ایشنز سے منسلک نہیں ہیں جسکی وجہ سے وہ اپنے حقوق کی آواز اٹھانے کیلئے منظم پلیٹ فارم سے محروم ہیں، سڑستھ فیصد خواتین ملازمیں بڑھاپے میں پینشن ای او بی آئی سے محروم ہیں جبکہ ترستھ فیصد خواتین ملازمین کو پروویڈنٹ فینڈ کی سہولت بھی میسر نہیں ہے، وویمن ورکر الائنس کی اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اور انسانی و خواتین کے حقوق کمیشن اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے خواتین ملازمین کے تمام جائز اور قانونی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائیں، خواتین ملازمین کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، زیادہ تر اداروں میں عمارات مرد حضرات کے استعمال کے مدنظر بنائی جاتی ہیں جس سے وہاں کام کرنے والی خواتین ملازمیں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خواتین ملازمین کے حالات کار کو سازگار بنانے کیلئے ای ویم کی مانیٹرنگ رپورٹ میں نشاندہی کردہ مسائل کا ازالہ کیا جائے، ملازمت کی تمام جہگوں پر جنسی ہراسانی کی شکایت کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے اور کمیٹی کے ارکان کی لسٹ بمعہ نام اور رابطہ نمبر نمایاں جگہ پر اردو اور انگریزی دونوں میں آویزاں کی جائے، خواتین ملازمین کی سہولت اور تحفظ کیلئے دفااتر میں الگ بیت الخلاء بنائے جائیں، ہر ادارے میں قانون کے مطابق ڈے کیئر کی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ لیبر ڈیپارٹمنٹ اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر آجر حاملی خواتین ورکرز کو زچگی کے کے دوران قانون کے مطابق چھٹیاں بمعہ معاوضہ دی جائیں اور زچگی کی دیگر مراعات بھی مہیا کی جائیں، ہر ادارے میں خواتین ملازمین کو ملازمت کا تحریری معاہدہ فراہم کیا جائے، تمام نجی و صنعتی اداروں جہاں پر پانچ یا اس سے زائد افراد ملازم ہوں کے آجران کو ای او بی آئی کیساتھ رجسٹریشن کا پابند بنایا جائے اور ملازمین کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے جبکہ خواتین ملازمین کو صوبائی قانون میں طے شدہ کم از کم اجرت کے مطابق معاوضہ کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے،