Multan 34

سینیٹ الیکشن کے لئے جومنڈیاں لگتی ہیں بند ہوں ،سپریم کورٹ جوفیصلہ کرے گی تسلیم کریں گے ۔وزیرخارجہ

ملتان:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم اوپن بیلٹ کی کوشش کررہے ہیں۔سینیٹ الیکشن میں پوری قوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے ہم اوپن بیلٹ کیوں کر رہے ہیں۔پورا پاکستان جانتا ہے سینٹ کے الیکشن میں خریداری ہوتی ہے۔ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے گزشتہ الیکشن میں بھی اراکین کوخریدنے کی منڈی لگائی گئی۔تحریک انصاف کا موقف ہے ضمیر کے خریداروں کی منڈی بند ہونی چاہئے۔سینیٹ کے الیکشن میں جو منڈی لگتی ہے اس کو بند ہونا چائیے۔ عمران خان نے گزشتہ الیکشن میں بھی اس چیز کا نوٹس لیا تھا۔جو جس پارٹی کے نشان پر منتخب ہوکر آئے ہیں وہ ان ہی کو ووٹ دیں ۔یہ صرف تحریک انصاف کا موقف نہیں ہے یہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں بھی لکھا ہوا ہے ۔جب تمام پارٹیاں اوپن بیلٹ کا کہہ چکی ہیں تو اب اس سے پیچھے کیوں ہٹ رہی ہیں ۔دونوں جماعتوں نے چارٹر آف ڈیمانڈ کی شق نمبر 24 میں لکھا اور دستخط کئے۔ تو پھر اپ اب اوپن بیلٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ منڈی کیوں لگانا چاہتے ہیں وہ لوگوں کو کیوں خریدنا چاہتے ہیں؟قوم جاننا چاہتی ہے ،آج پوری قوم دیکھ لے کون ہے کرپٹ نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔او رکون لوگ اس کرپٹ نظام اورخریداری کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔کچھ اراکین کا خیال تھا کہ اس مسئلے پر آئینی ترامیم ہونی چاہئے لیکن ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں۔ہم سپریم کورٹ میں چلے گئے ہیں اور وہ آئین کی تشریح کرکے بتائیں گے ۔سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہم اس کو کھلے دل سے تسلیم کریں گے۔انہوں نے کہا سینیٹ کے انتخابات کا مہنگائی کم کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ مہنگائی کم کرنے کیلئے بہت سے عوامل ہیں۔ سینیٹ ایک ایسا ادارہ جو وفاق کی علامت ہے ۔سینیٹ میں ہر مسئلہ کو اٹھانا چاہئے۔سینیٹ وفاق کی مضبوطی کی علامت ہے۔اس وقت بہت سی طاقتیں پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔بہت سی طاقتیں ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد ی اور انتشار پھیلانا چاہتی ہیں۔جو وفاق کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ اورملکی معیشت کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ سینیٹ کے نومنتخب اراکین اور سینیٹ کا ایوان ملک دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لئے معاون ثابت ہوگا ۔ اورآئین کے تحفظ میں اپنا کردا رادا کرے گا۔ انہوں نے کہا پی ڈی ایم نے استعفوں کا اعلان کیا تھا جوآج تک پورا نہیں ہوا۔پی ڈی ایم نے آج تک جتنے اعلانات کئے وہ پورے نہیں ہوئے ۔ لانگ مارچ و احتجاج پی ڈی ایم کاآئینی حق ہے، ہم اس حق کو تسلیم کرتے ہیں اور پی ڈی ایم سے گزارش کرتے ہیں قانون کو ہاتھ میں نہ لیں ملک میں افراتفری نہ پھیلائیں۔ نجی و سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ احتجاج کریں جمہوری انداز و جمہوری طور طریقے سے کریں ۔ اپنا موقف پیش کریں ۔حکومت کی جانب سے لانگ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف کی رائے میں پی ڈی ایم کے جلسوں میں عوام نے شرکت نہیں کی۔ بلکہ پی ڈی ایم کے کارکنوں نے شرکت کی ۔ عوام نے انہیں پذیرائی نہیں دی ۔عوام یہ سمجھتی ہے کہ کورونا کے ماحول میں حکومت مسائل پر قابو پانے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔کورونا کے دوران ملک میں جو معاشی نقصان پہنچا حکومت اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ عوام کے خیال میں ملک میں جمہوریت کو چلتے رہناچاہئے۔ اور حکومت کو اس کی آئینی مدت پوری کرنی چاہئے۔ آج جو لوگ احتجاج کررہے ہیں وہ یہ بتائیں سندھ میں پچھلے 15سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں اس نے کون سی قابل ذکر کارکردگی دکھائی ہے۔ پنجاب میں گزشتہ 40سال سے ن لیگ کی حکومت ہے ن لیگ آسمان سے کونسے تارے توڑ کر لائی ہے۔اب پاکستان کے عوام کرپٹ عناصر کا ساتھ دینے اور کرپٹ لوگوں کیلئے سڑکوں پر آنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہامیں پاکستان کی عوام کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس سال5 فروری کویوم یکجہتی کشمیر پر ملک کے کونے کونے میں احتجاج کیا۔قوم نے کشمیریوں کے ساتھ ہونے کے عہد کی تجدید کی۔ پوری قوم نے ملک میں یکجا ہو کر مودی کی پالیسیوں کو مسترد کیا۔ 5فروری کوکشمیریوں اور پاکستانیوں نے بھارتی تسلط کو مسترد کر دیا۔ آج پوری دنیا کے ہر فورم پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بھارت پر تنقید ہو رہی ہے۔ دنیا میں کشمیریو ں کے حق میں آواز بڑھتی جا رہی ہے۔ نیویارک کی اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے ہر سال پانچ فروری کو یوم کشمیر منانے کا اعلان کیا ہے۔جو ہماری بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا بھارت کی خواہش ہے کہ وہ سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے ۔لیکن مجھے امید ہے دنیا کے ممالک بھارتی خواہش کو ملحوظ خاطر نہیں لائیں گے۔انہوں نے کہا میرے علم میں نہیں ہے کہ علی ترین سینیٹ کے امیدوار ہیں ۔سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کی خواہش ہے ایسے لوگ سامنے آئیں جو پارٹی کے وفادار ہوں۔ تحریک انصاف کے نظریہ کی نمائندگی کر سکیں ۔عمران خان سینیٹ الیکشن میں کسی دوست کونوازنانہیں چاہتے۔ سینیٹ انتخابات کے بورڈ میں پارٹی چیئرمین عمران خان اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے پوری پارٹی اسے قبول کریگی۔ انہوں نے کہا کے ٹوسرکرنے کے بعد کوہ پیمائوں کی گمشدگی کے بعد آرمی ہیلی کاپٹر اور ماہرین کوہ پیمائوں کی تلاش میں مصروف ہیں ۔دعا کریں کوئی اچھی خبر ملے۔میری کل آئس لینڈ کے وزیرِ خارجہ سے کوہ پیما کی تلاش سے متعلق بات ہوئی۔ میں نے انکو بتایا جیسے ہی کوئی اطلاع ملے گی میں انکو آگاہ کرونگا ۔قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چونگی نمبر 14تا چونگی نمبر11 اور چونگی نمبر11تا ریلوے پھاٹک و انصار چوک پر میٹل روڈ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس منصوبے کی تعمیر پر3 کروڑ 88 لاکھ 96ہزار کی لاگت آئیگی اور یہ ایک سال کے اندر مکمل ہوگا۔ انہوں نے کہا اس کی بدولت یہاں کے باسیوں کو بہت زیادہ دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جس کی تکمیل سے اس علاقے کی ایک بہت بڑی آبادی کو آسانی ہوگی۔