NAB 91

پلی بارگین کی درخواست پر احتساب عدالت منظوری دیتی ہے ۔نیب

اسلام آباد:قومی احتساب بیورو (نیب ) نے واضح کیا ہے کہ ملزم کی پلی بارگین کی درخواست پر احتساب عدالت منظوری دیتی ہے۔نیب نہیں۔نیب کی تحویل میں کوئی ملزم ہلاک نہیں ہوا۔نیب جھوٹی خبریں چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا۔نیب اعلامیے کے مطابق ملزمان کی درخواست پر احتساب عدالت پلی بارگین کی منظوری دیتی ہے۔ملزم احتساب عدالت میں نہ صرف اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے بلکہ احتساب عدالت میں اپنی مرضی سے اپنا بیان ریکارڈ کراتا ہے اور لوٹی گئی رقم کی پہلی قسط بھی جمع کراتا ہے۔پلی بارگین نیب آرڈیننس 1999 کے آرٹیکل 25بی کے تحت جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ملزمان نیب کی جانب سے اکٹھے گئے ٹھوس ثبوت اور شواہد کو دیکھ کر پلی بارگین کا راستہ رضاکارانہ طور پر اختیار کرتا ہے۔کیونکہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔نیب پلی بارگین کے ذریعے لوٹی گئی رقم وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کراتا ہے وہ یہ قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہا ہے۔امریکہ،برطانیہ،آسٹریلیا اور بھارت جیسے ممالک میں پلی بارگین کی جاتی ہے۔پلی بارگین کے بعد ملزم 10سال کے لئے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نا اہل ہو جاتا ہے۔وہ شیڈول بینکوں سے قرضہ کے حصول کے لئے نا اہل ہو جاتا ہے۔اس کی کمپنی بلیک لسٹ ہو جاتی ہے۔اگر وہ سرکاری ملازم ہے تو احتساب عدالت سے پلی بارگین کی منظوری کے بعد ملازمت سے سبکدوش کر دیا جاتا ہے۔اس لئے میڈیا میں دیا جانے والا تاثر درست نہیں کہ نیب پلی بارگین کی منظوری دیتا ہے۔درحقیقت ملزم کی درخواست پر احتساب عدالت پلی بارگین کی منظوری دیتی ہے۔مزید یہ کہ نیب کی تحویل میں کوئی ملزم ہلاک نہیں ہوا۔نیب اس حوالے سے تمام میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتا ہے۔اور نیب کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے والوں کو قانونی نوٹسز جاری کر ے گا اور کہے گا وہ 14دن میں اپنے الزامات ثابت کریں بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ نیب اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ نیب انسان دوست اور قانون پسند ادارہ ہے۔چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں بدعنوانی کے خاتمے کے لئے نیب کی کوششوں اور کارکردگی کو قومی اور بین الاقوامی معتبر اداروں جیسے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل،عالمی اقتصادی فورم،پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے سراہا ہے۔گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59فیصد عوام نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔نیب انسداد بدعنوانی کا واحد ادارہ ہے جس نے اپنے قیام سے اب تک 466ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کروائے ہیں۔نیب مقدمات میں سزا کی شرح68.8فیصدہے۔جوکہ پاکستان کےدیگر انسداد بدعنوانی کے اداروں کے مقابلے میں کسی ادارے کی بہترین کارکردگی ہے۔