Chitral 33

بڑی دیر کردی مہرباں آتے آتے۔ گولین واٹر سپلائی سکیم ایک سال بعد بحال

بڑی دیر کردی مہرباں آتے آتے۔ گولین واٹر سپلائی سکیم ایک سال بعد بحال۔ چترال کو پانی کی فراہمی شروع ہوگئی۔
چترال(گل حماد فاروقی) چترال شہر کو گولین سے آنے والا پینے کی پانی کا پائپ لائن 7 جولائی 2019 کو اس وقت تباہ ہوا تھا جب گولین میں گلوف کا واقعہ پیش آیا یعنی برفانی تودہ پھٹ جانے سے علاقے میں تباہ کن سیلاب آیا تھا۔ جس کے باعث اس علاقے میں متعدد مکانات، زیر کاشت اراضی، دکانیں، سڑکیں، پل، آبپاشی کی نہریں اور پینے کی پانی کا یہ پائپ لائن بھی تباہ ہوا تھا۔ جس کے نتیجے میں چترال ٹاؤن اور مضافات میں پچاس ہزار لوگ پینے کی صاف پانی سے محروم تھے۔
اس منصوبے کی بحالی کیلئے علاقے کے لوگوں نے کئی بار احتجاج بھی کیا تھا مگر اس کے باوجود حکومت ایک سال تک فنڈ فراہم نہ کرسکا۔ عوام کے پر زور مطالبے پر صوبائی حکومت نے اس منصوبے کیلئے پونے چار کروڑ روپے کا فنڈ منظور کرکے اس بحالی پر 14 جون 2020 کو کام شروع ہوا تاہم 13 جولائی کو ایک بار پھر گولین میں گلوف یعنی برفانی تودہ پھٹنے سے سیلاب آیا اور اسے ایک بار پھر تاحیر کا شکار ہونا پڑا۔
تاہم عوام کے دباؤ پر متعلقہ تعمیراتی کمپنی نے دن رات محنت کرکے اس منصوبے کو بالآحر پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ کے معاون حصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کیلاش نے اس منصوبے کا افتتاح کرکے چترال شہر کو پانی کی فراہمی بحال کردی۔اس موقع پر انہوں نے وزیر اعلےٰ محمود خان کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے سیلاب کی وجہ سے تباہ شدہ منصوبوں کی بحال کاری کیلئے؛پچھلے سال چالیس کروڑ ستر لاکھ روپے دئے تھے جس سے محتلف منصوبوں کا دوبارہ بحالی ہوئی۔ اس سال جو سیلاب آیا تھا اس پر بھی وزیر اعلےٰ نے 65 کروڑ روپے کا گرانٹ دیا تھا جس کیلئے میں ان کا بے حد مشکور ہوں جو چترال کی تعمیر و ترقی میں کافی دلچسپی لیتے ہیں۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈیزاسٹر عبد الولی خان نے بتایا کہ اس منصوبے کی بحالی کیلئے عوام کی طرف سے انتظامیہ پر کافی دباؤ تھا اب شکر ہے یہ مکمل ہوا اور ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو اس سے فایدہ ہوگا۔
محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیرنگ کے ایگزیکٹیو انجنیر محمد زاہد نے کہا کہ ہم اس کام سے کافی مطمئن ہے کیونکہ اس مرتبہ اسے نہایت محفوظ ر استے سے لایا گیا ہے۔ اب عوام کو پانی کا مسئلہ نہیں ہوگا۔
تعمیراتی کمپنی کے ڈائریکٹر فہیم اعظم نے بتایا کہ اس منصوبے کو ہم بہت پہلے مکمل کرلیتے اگر دوبارہ سیلاب نہ آتا تاہم ہماری ٹیم نے دن رات محنت کرکے اسے دو ماہ پہلے مکمل کروایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کو قبل از وقت پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اس بار اس کی حفاظت کیلئے محتلف جگہوں میں کنکریٹ کا کام بھی ہوا ہے اور پائپ لائن کو دریا کی بجائے سڑک کے کنارے لایا گیا ہے تاکہ آئندہ سیلاب کی وجہ سے اسے نقصان نہ پہنچے۔
گولین واٹر سپلائی سکیم کی بحالی پر علاقے کے لوگ نہایت خوش ہیں کیونکہ یہاں کے لوگ پانی کیلئے ترس رہے تھے اب لوگوں کا پانی کا مسئلہ حل ہوگا۔ واٹر سپلائی سکیم کی افتتاح کے موقع پر تحصیل میونسپل آفیسر مصباح اللہ، WSU کا عملہ اور علاقے کے معززین بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں