NAB 14

نیب ہیڈ کوارٹرزمیں ایک اجلاس منعقد ہوا

اسلام آباد قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈ کوارٹرزمیں ایک اجلاس منعقد ہواجس میں نیب کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایاگیاکہ نیب کوسال 2019 میں مجموعی طور پر51591 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 46123 شکایات کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیا۔ نیب نے سال 2019 میں 1464 شکایات پر جانچ پڑتال کی منظوری دی جن میں سے 1362شکایات کی جانچ پڑتال کو قانون کے مطابق مکمل کیا گیا۔ نیب نے سال 2019 میں 574 انکوائریوں کی منظوری دی جبکہ658 انکوائریوں کومکمل کیا گیا۔ اسی طرح نیب نے سال 2019 میں 221 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی جن میں سے 217 انوسٹی گیشنز پرقانون کے مطابق کاروائی مکمل کی گئی۔ نیب نے سال 2019 میں 206 ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ چئیرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے بدعنوان عناصرسے 363 ارب روپے برآمد کئے۔ اس وقت ملک کی معزز احتساب عدالتوں میں نیب کے 1230 بدعنوانی کے ریفرنس زیرسماعت ہیں جن کی کل مالیت تقریباََ 943 ارب روپے ہے۔ اس کے علاوہ نیب نے 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 57 ریفرنسز کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیا ہے۔ اس وقت 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 10 انکوائریوں اور 15 انوسٹی گیشزتکمیل کے مراحل میں ہیں۔ اس کے علاوہ جن مقدمات میں معزز عدالتوں نے حکم امتناہی جاری کر رکھا ہے ان کی جلد سماعت کے لئے درخواستیں معز احتساب عدالتوں میں دائر کی جائیں گی۔
چئیرمین نیب نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانااوربدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے نیب کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تمام ڈی جیز کو ہدایت کی کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق مقررہ وقت کے اندرمنطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی کارکردگی جہاں معتبر قومی اور بین الااقوامی اداروں نے سراہا ہے وہا ں گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق ملک کے 59 فیصد افراد نے نیب پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام انوسٹی گیشنزآفیسرز اور پراسیکیوٹرز کو ہدایت کی کہ تمام وائیٹ کالرمقدمات کی تحقیقات سائنسی بنیادوں پر ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ معزز احتساب عدالتوں میں ان کی موئژپیروی کی جائے تاکہ بدعنوان عناصر کوقانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ افرادی قوت کو بڑھانے اور ان کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے جہاں میرٹ پر تحقیقاتی افسران بھرتی کئے ہیں وہاں ان کو جدید خطوط پر تربیت دی گی ہے۔ ان کی تربیت کی تکمیل کے بعد تفتیش اور تحقیقات کا نہ صرف معیار بڑھا ہے بلکہ تحقیقاتی افسروں کے کام میں اب مزیدتیزی آئی ہے۔ نیب نے ایک موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن نظام بنایا ہے جس کے تحت تمام شکایات پر پہلے دن سے ہی ایک انفرادی نمبر لگا یا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکوائریوں، انوسٹی گیشنز، احتساب عدالتوں میں ریفرنس، ایگزیکٹو بورڈ، ریجنل بورڈز کی تفصیل، وقت اور تاریخ کے حساب سے ریکارڈ رکھنے کے علاوہ موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن سسٹم کے ذریعہ اعدادوشمار کا معیاراور مقدار کا تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے۔ نیب نے شکایات کوجلد نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے اس کے علاوہ قومی احتساب بیورو نے اپنے ہر علاقائی دفتر میں ایک شکایت سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔ قومی احتساب بیورو نے نیب میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی عمل میں لائیہے۔ اب آپریشن ڈویژن کے تحت نئے تحقیقاتی افسروں اور پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی سے دونوں ڈویژن مزید متحرک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو نے اپنے تحقیقاتی افسروں اور نئے لا افسروں کی جدید خطوط پر استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ٹریننگ پروگرامز بھی ترتیب دئیے جہاں ان کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کرپشن اور وائٹ کالر جرائم کی سائنسی بنیادوں پر جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ نیب کی مجموعی طور پر احتساب عدالتوں میں بدعنوان عناصر کو سزا دلوانے کی شرح تقریبا68.8َ فیصد ہے جس کو مزید بہتر بنایا جائیگا اور کمنائنڈ انوسٹی گیشن کے نظام کے تحت تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نہ صرف مکمل کیا جائے بلکہ ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں