Private educational institutions 13

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسیں کم

سینیٹ عملدرآمد کمیٹی کا پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسیں کم کرنے، معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے حوالے سے وفاقی و صوبائی وزراء تعلیم، وفاقی و صوبائی سیکرٹریز تعلیم، وزارت قانون و انصاف اور ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے ساتھ آئندہ اجلاس میں تفصیلی مشاورت کا فیصلہ۔
صوبائی کوٹے پر عملدرآمد کی تفصیلات کے حوالے سے تمام محکموں کے ملازمین کی تفصیلات طلب اسلام آبادایوان بالاء اور سینیٹ کمیٹیوں کی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے حوالے سے سینیٹ کی عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر دلاور خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔عملدرآمد کمیٹی اجلاس میں سینیٹر منظور احمد کاکڑ کی جانب سے 26 اگست2020 کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں فیسیں کم کرنے،سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے 8جون 2020کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملے برائے آغا ز حقوق بلوچستان پیکج پر عملدرآمد کے علاوہ 10فروری 2020کو سینیٹرز محمدعثمان خان کاکڑ، عابدہ محمد عظیم اور گل بشرہ کی جانب سے پیش کردہ تحریک برائے آغا ز حقوق بلوچستان پیکج کا مقصد، اصل خیال اور اس پر عملدرآمد کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
عملدرآمد کمیٹی اجلاس میں آغا حقوق بلوچستان پیکج کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کی 15ہزار 783آسامیاں 83مختلف اداروں کیلئے دی گئی تھیں جس میں سے 10527آسامیوں پر تقرری مختلف محکموں میں کی گئی ہے جبکہ 5257آسامیاں ہمارے صوبے کی خالی پڑی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ صوبہ بلوچستان کے 6فیصد صوبائی کوٹے کو آغا حقوق بلوچستان پیکج میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ صوبائی کوٹے اور آغا حقوق بلوچستان پیکج کو علیحدہ ڈیل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ گزشتہ چند مہنیوں میں بے شمار محکموں کی سینکڑوں آسامیوں کے اشتہارات آئے ہیں جن میں وزارت خزانہ، تعلیم، کامرس، قانون انصاف، دفاع اطلاعات و نشریات، انسانی حقوق ودیگر شامل ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ اُن اشتہارات صوبہ بلوچستان کیلئے آسامیاں نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے صوبے کی لیویز کی 12سو آسامیاں پر عدالت نے حکم امتنائی تین سالوں سے دے رکھا ہے جس کو ابھی تک ختم نہیں کرایا جا سکا۔ جس پر اسپیشل سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبائی کوٹے پر عملدرآمد کے حوالے سے تمام محکموں کو احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں اور مختلف محکموں سے ڈیٹا بھی حاصل کیا گیا ہے کہ صوبائی کوٹے پر کتنا عمل کیا جا رہاہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ وہ ادارے جو پارلیمنٹ اور اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی ہدایت کے مطابق صوبائی کوٹے پر عملدرآمد نہیں کر رہے اُن کو طلب کر کے پوچھا جائے۔ پارلیمنٹ کی ہدایات پر عمل نہ کرنا پارلیمنٹ کے استحقاق کومجروح کرنے کے مترادف ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آغا حقوق بلوچستان پیکج کے تحت پانچ ہزار اضافی آسامیاں دی گئی تھیں اور ایک ہی دفعہ 2سو ملین روپے بھی دیئے گئے تھے اس کے ساتھ صوبے بلوچستان کے صوبائی کوٹے کو 3.5فیصد سے بڑھا کر 6فیصد کر دیا گیا تھا۔ بہتر یہی ہے کہ تمام محکموں سے ملازمین کی تفصیلات لے کر دیکھا جائے کہ کس صوبے سے کتنے ملازمین ہیں اور صوبائی کوٹے پر کتنا عملدرآمد کیا گیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ کرونا وباء کے دوران لوگوں کے معاشی حالات خراب ہوئے تھے وفاقی حکومت اور پاکستان کی عدالتوں نے بھی پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسیں کم کرنے کے حوالے سے احکامات جاری کئے تھے مگر افسوس کی بات ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جس سے بے شمار والدین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کے اجلاسوں اور کمیٹیوں میں بھی تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے سفارشات کی تھیں مگر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اگر تعلیمی ادارے پیرا کے احکامات پر عملدرآمد نہیں کرتے تو اُس پر کیا ایکشن لیا جاتا ہے آگاہ کیا جائے۔ اگر اس حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے تو پیرا کمیٹی کو تجاویز دے اُس کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بے شمار والدین کی پرائیورٹ تعلیمی اداروں کے خلاف شکایات موصول ہو رہی ہیں۔جس پر چیئرپرسن پیرا ضیاء بتول نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی 20 فیصد فیسیں کم کرنے کی سفارش کی تھی اور سپریم کورٹ نے بھی واضح ہدایت دی تھی کہ 2017 کو بنچ مارک بنایا جائے اور پرائیوٹ تعلیمی ادارے صرف5 فیصد فیسوں میں اضافہ کرنے کے مجاز ہیں اور گرمیوں کی چھٹیوں میں صرف50 فیصد فیسیں لینے اور فی ماہ فیس لینے کی ہدایت کی تھی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ سکول جو 5 ہزار سے زائد فیس وصول کر رہے ہیں ان کو 20 فیصد کم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ8 فیصد پرائیوٹ سکولوں کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فیسیں کم نہ کرنے کے حوالے سے 700 شکایات موصول ہوئیں اورایکشن بھی لیا گیا ہے۔سینیٹر سردار محمد شفیق ترین نے کہا کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے فیسوں کی بھر مار کر کے سفید پوش معاشرے کے بچوں کو ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے سے محروم کر رکھا ہے اگر مناسب فیسیں وصول کی جائیں تو عام طبقے بھی ان سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ تعلیم کے شعبے کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے آمدن کی فیکٹری بنا رکھا ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ پارلیمنٹ اور عدالتوں کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں کے حوالے سے احکامات پر عملدرآمد کرانے معیار تعلیم کو بہتر کرنے اور اس حوالے سے قانون سازی کیلئے آئندہ اجلاس میں وفاقی و صوبائی وزراء تعلیم، وفاقی و صوبائی سیکرٹریز تعلیم، وزارت قانون و انصاف اور ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے ساتھ تفصیلی مشاورت کر کے ایک نیشنل پالیسی مرتب کی جا سکے اور فیسوں میں کمی اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے پیرا سے تجاویز طلب کر لیں۔
کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز نگہت مرزا، رانا محمود الحسن، سردار محمد شفیق ترین، عابدہ محمد عظیم،محمد ایوب،نصیب اللہ بازئی، عثمان خان کاکڑ، گل بشرہ کے علاوہ سپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن ڈاکٹر مسعود اختر چوہدری،ایڈیشنل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تعلیم، چیئرپرسن پیرا ضیا بتول اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں