Kashmiri women 35

تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر پاکستان کا کشمیری خواتین کے ساتھ اظہار یک جہتی

تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کو آج مناتے ہوئے ہم دنیا کی توجہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیری خواتین کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ اور افسوسناک مظالم کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جنہیں قابض بھارتی فوج اکثر اوقات جنسی درندگی کے ظلم کا نشانہ بناتی ہیں۔

گزشتہ تین دہائیوں کے دوران قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں 11 ہزار سے زائد خواتین کوبے حرمتی یا اجتماعی بے حرمتی کے جرائم کا نشانہ بنایا۔ ہم ان مظلوم متاثرہ خواتین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔

بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی جبرواستبداد اور غیرقانونی قبضے کے خلاف مزاحمت پر خواتین کو اکثر اوقات ان کے خاندانوں، معاشرے کو اجتماعی سزا دینے کے لئے منظم انداز میں بے حرمتی و تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔ نام نہاد ”چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں“ کی آڑ میں دیگر مظالم کے علاوہ نوجوان خواتین کے اغوا اور ان کی بے حرمتی قابض بھارتی فوج پورے معاشرے کو سزا دینے کے بہیمانہ طریقے کے طورپر استعمال کرتی ہے۔

خواتین کے خلاف بہیمانہ اور قابل نفرت تشدد کے یہ ہتھکنڈے ’افواج کے خصوصی اختیارات‘ جیسے سیاہ اور ظالمانہ قوانین کے ذریعے استعمال کئے جارہے ہیں جو جنسی تشدد جیسے جرائم میں ملوث قابض بھارتی فوج کو تحفظ دیتے ہیں۔

بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے جاری تنازعہ کی صورتحال میں جنسی تشدد کے ارتکاب کے بھارتی جرائم کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لئے ہائی کمشنر کے آفس (او۔ایچ۔سی۔ایچ۔آر) کی 2رپورٹس، عالمی میڈیا اور دنیا بھر کی سول سوسائیٹی تنظیموں نے دستاویزی شکل میں قلم بند کیا ہے۔

23 فروری 1991 کو بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے گاوں کنان پشپورہ میں کشمیری خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کا قابل افسوس اور شرمناک واقعہ ان کئی شہادتوں میں سے ایک ہے جو قابض بھارتی فوج کی جانب سے پوری آبادی کو دہشت زدہ کرنے کے لئے جنسی تشدد کے منظم جرم کاثبوت ہے۔

متنازعہ خطے میں خواتین کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والے عناصر کو سزائیں نہ دے کر بھارت دانستہ انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو اپنے پاوں تلے روند رہا ہے۔

پاکستان مقبوضہ خطے کے عوام بالخصوص خواتین کو غلام بنائے رکھنے کے لئے خواتین کی بے حرمتی کی بھارتی ریاستی پالیسی اور انسانیت کے خلاف گھناونے جرائم کی شدید مذمت کرتا ہے۔ دنیا بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں جنگی جرائم کے ان حربوں کو رکوانے کے لئے اپنی آواز بلند کرے جو عالمی انسانی حقوق اور قوانین سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے صریحا خلاف ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، ’او۔ایچ۔سی۔ایچ۔آر‘، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تحفظ کے نظام اور تنازعات میں جنسی تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا خصوصی نمائندہ کشمیری خواتین کے خلاف ان جرائم کا نوٹس لے کر بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کرے اور بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں جنسی جرائم کے مرتکب عناصر اور ان کے مددگاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں