National Assembly 57

اپوزیشن رہنماؤں نے اسیراراکین کولانے تک قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت سے انکارکرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا

اسلام آباد: اپوزیشن رہنماؤں نے اسیراراکین کولانے تک قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت سے انکارکرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا۔

مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے قومی اسمبلی سے اسیراراکین کولانے تک اجلاس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے احکامات پر عملدرآمد کے لئے ہی احتجاج کررہے ہیں، پروڈکشن آرڈرزپرعمل درآمد کیوں نہیں ہورہا، خواجہ سعد رفیق کو اجلاس میں لانے میں کون رکاوٹ ہے جب کہ رانا ثناءاللہ کے پروڈکشن آرڈرجاری کیوں نہیں ہو رہے۔

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان اپوزیشن کو منانے کی کوشش کرتے رہے لیکن اپوزیشن نے واک آؤٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی پیر4 بجے تک ملتوی کردی گئی ہے۔

206 ارب 28 کروڑروپے عوام کی جیبوں سے نکلوالیے

اس سے قبل آج اجلاس میں وزیربرائے پٹرولیم ڈویژن نے حکومت کے پہلے سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 بار اضافہ جب کہ 11 بار کمی کی گئی۔

پٹرولیم ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے ایک سال میں پٹرولیم ٹیکسوں کی مد میں 206 ارب 28 کروڑروپے عوام کی جیبوں سے نکلوا لیے ۔ حکومت ڈیزل پرفی لیٹر45 روپے 75 پیسے ٹیکس وصول کررہی ہے، پٹرول پر35 روپے، مٹی کے تیل پر20 روپے اورلائٹ ڈیزل پر14 روپے 98 پیسے فی لیٹر ٹیکس وصولی ہورہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں