alvi 72

صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی کا چائنہ ایگروکیمیکل پاکستان سمٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دنیا بھر کے تاجروں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں کیونکہ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے سازگار ملک بن چکا ہے، وطن عزیز ایشیاءکے تیزی سے ترقی کرنیوالے ممالک میں شامل ہو چکا ہے، حالیہ بین الاقوامی اشاریے اس بات کے عکاس ہیں، پاکستان اور چین خطے میں مستقل امن اور معاشی ترقی کیلئے کوشاں ہیں اور سی پیک بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، موجودہ حکومت ماحولیات، گلوبل وارمنگ، تعلیم، خطے میں امن کے قیام پر کام کر رہی ہے۔ وہ جمعرات کے روز یہاںایکسپو سنٹر میں دو روزہ پانچویں چائنہ ایگرو کیمیکل پاکستان سمٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیات اورگلوبل وارمنگ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے، وزیراعظم عمران خان گلوبل وارمنگ ‘ تعلیم‘ علاقائی امن و امان پر بہت کام کررہے ہیں۔ صدر مملکت نے کہاکہ سارک ممالک میں کئی دفعہ اس مسئلہ کو اٹھایا مگر بھارت اس ریجن میں تعاون نہیںکررہا، بدقسمتی سے ماحولیات کو صحیح کرنے میں بھارت ساتھ نہیں دے رہا۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں چائنہ پاکستان کے تعلقات بہتر ہیں اورچائنہ اپنے پڑسیوں سے بھی اچھے تعلقات رکھتا ہے جبکہ بھارت اپنے ہی لوگوں سے لڑ رہا ہے اوراقلیتوں کے مذہبی مقامات جیسے بابری مسجد ،کشمیر اور دیگر مسائل بھارت کی وجہ سے متاثرہورہے ہیں۔ علاقے کا اہم ملک بھارت اس بات کو نہیں سمجھ سکا کہ مسلمانوں نے یہاں حکومت کی ہے، بھارت اپنے اندر رہنے والی ہر اقلیت کے ساتھ بدسلوکی کر رہاہے جو خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسرے فیز میں چین اور پاکستان کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدہ پر عملدرآمد دسمبر سے شروع ہوجائیگا۔ ایگرو کیمیکل سمٹ نے 2019ءمیں بڑا اچھا موقع فراہم کیا ہے کہ دونوں ممالک کے تاجر اورکسان ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ صدر مملکت نے زراعت کے حوالے سے چین کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اگرچہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن بیج کی پیداوار کے حوالے سے ہم چائنہ سے بہت پیچھے ہیںاورمارکیٹ کی ضرورت کے مطابق بیج پیدا نہیں کر رہے، ہمیں اس کمی کو پورا کرنا ہے، پاکستان ایگریکلچرل کونسل بھی اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے، کسان تبدیلی کو دیکھنا چاہتا ہے، کسانوں کو زبانی بتاکر نہیں سمجھایا جاسکتا اوراس سلسلے میں ماڈل فارم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسان عملاً جدید زرعی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکے۔صدر نے کہا کہ کھاد اورزرعی ادویات کا استعمال ضرورت کے بغیر نہیںہونا چاہئے اور مٹی کے ٹیسٹ کے بعد اس میں ضرورت کے مطابق وہی کھاد اتنی مقدارمیں ڈالی جائے جو منظور کی گئی ہو۔ اب زراعت ایک سائنسی پراسیس کے مجموعے کا نام ہے جوجدید ٹیکنالوجی میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے اس کے ساتھ ساتھ بروقت معلومات کسان تک پہنچانا بھی ضروری ہےں۔ دنیا بدل رہی ہے کسان کو بھی بدلناہوگا اور اس سلسلے میں کسان کو بھی جدید زرعی تکنیک کو اپنانا پڑیگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی مفاد سے بالاتر ہے، ہم ایک دوسرے کے علاقائی اورتہذیبی مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں،پاکستان اور چین علاقے میں مستقل امن اور معاشی ترقی کیلئے کوشاں ہیں۔ سی پیک بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اس سے بالخصوص ان ممالک کو زیادہ فائدہ ہوگا جن کے ساتھ سمندری حدود نہیں لگتیں۔صدر مملکت نے پاکستان چین دوستی کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے خطاب میں چین کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ چین ایشیاءمیںسب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنیوالا ملک ہے اور پاکستان بھی اس کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہا ہے، پاکستان بھی ایشیاءکے ان ممالک میں شامل ہے جو تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور حال ہی میں موصول ہونیوالی بین الاقوامی اشاریے اس بات کے عکاس ہیں۔صدر نے کہا کہ ایک اچھی خبر بھی دینا چاہتا ہوں کہ تاجروں کیلئے معاشی پالیسیز کے حوالے سے اعتماد بحال ہوا ہے جس کی وجہ سے تجارت میں اضافہ ہوا ہے ۔صدر مملکت نے کہا کہ میں دنیا بھر کے تاجروں، سرمایہ کاروںکو دعوت دیتاہوں کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں ۔پاکستان سرمایہ کاری کرنے بارے سازگار ملک بن چکا ہے۔ بعد ازاں صدر مملکت نے چائنہ ایگروکیمیکل پاکستان سمٹ میں موجود مختلف سٹالز کا دورہ کیا اور نمائش منتظمین کی کاوش کو سراہا۔ اس موقع پر چیئرمین سی اے سی جاوید اقبال چیمہ ،لاہور چیمبر کے صدر اور چائنیز کمپنیز کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں