Construction ban 19

مری میں تعمیرات پر پابندی جہاں انسانی حقوق کی پامالی ہے

مری عوامی اورسیاحتی حلقوں نے کہا ہے کہ مری میں تعمیرات پر پابندی جہاں انسانی حقوق کی پامالی ہے، فیس کی مدمیں سرکاری خزانے میں فیس کی مدمیں جمع ہونے والی کثیر رقوم اہلکاروں کی جیبوں میں جارہی ہے جبکہ پابندی ہونے کے باجود غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے تعمیرات پر ایسی پابندی کی مثال کئی بھی موجود نہیں عوامی حلقوں کاکہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرا ت اس وقت تک نہیں رک سکتیں جب تک لوگوں کو قانون اوربائی لاز کے مطابق تعمیرات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی طرف سے تعمیرات سے پابندی اٹھانے کے احکامات جاری ہوچکے ہیں اور بائی لاز کے مطابق تعمیرات کی اجازت دی گئی ہے مگر اسکے باوجود تاحال تعمیرات پر خود ساختہ پابندی جاری ہے جوبیوروکریسی کی طرف سے حکومت کیخلاف ایک سازش ہے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ فوری نوٹس لیں اور میونسپل کمیٹی مری کے ایڈمنسٹریٹر جو کہ اسسٹنٹ کمشنر مری بھی ہیں کو احکامات جاری کریں کہ جمع شدہ نقشوں کی فیسیں لیکر نقشے پاس کریں تاکہ گورنمنٹ کے خزانے میں قانونی تعمیرات کی مد میں بھاری فیسیں جمع ہوسکیں نہ اہلکاروں کی جیبوں میں جائیں،مری وطن عزیز کا اہم ترین سیاحتی مقام ہے،عوامی،سیاحتی حلقوں نے مطالبہ کیاہے کہ مری کے عوام کو اور دیگر شہروں کے جن لوگوں نے مری میں اپنے گھر بنانے کیلئے جائیداد یں خرید رکھی ہیں ان کو قانون اور بائی لاز کے مطابق تعمیرات کی اجازت دی جائے تاکہ میونسپل کمیٹی مری جو شدیدمعاشی بحران کاشکار ہے کی مالی پوزیشن بھی بہترہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں