Petroleum   12

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا بلند ترین33 فیصد اضافہ

مری عوامی،کاروباری حلقوں اور عام شہریوں کاکہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا بلند ترین33 فیصد اضافہ دراصل ”چینی اورآٹاسکینڈل کا پارٹ ٹوہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت کیاگیا جب ملک میں مصنوعی پٹرول کی قلت پیداکی گئی ہے انصاف کے دعویداروں نے حکومتی سرپرستی میں چینی،آٹاکے بعد پٹرول مافیا کو عوام کو لوٹنے کا لائسنس د ے دیاگیا ہے اورآٹا،چینی کے بعد پٹرول مافیا بھی جیت گیا اور عوام ہار گئے جبکہ حکومت مافیاز کی سب سے بڑی حمایتی ثابت ہوئی جس طرح دانستہ چینی کی قلت پیداکی گئی پھر ذخیرہ اندوزی کرائی اور پھر من مانے داموں مافیاز نے قوم کو خوب لوٹا پٹرول کے معاملے بھی چینی اورگندم چوری والی واردات دوہرائی گئی، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے قوم کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیلا 75 روپے قیمت کی تو پٹرول مارکیٹ سے غائب ہوگیا اور عوام رل گئے،عمران نیازی کے عوام کی بہتری اور احساس کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے اب مہنگائی کا سونامی غریبوں کو ختم کردیگا،ثابت یہ ہوا کہ یہ ظالموں، بے احساسوں اور نااہلوں کی حکومت ہے اب مزید یہ ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تاریخی کمی کا ناکافی ریلیف کی عوام سے سود سمیت وصول کرناشروع کردیاہے،کورونا کی دلدل میں دھنسی بے چاری غریب قوم پر پٹرولیم قیمتوں میں تاریخی اضافے کا بم پھینک دیاگیا انصاف کا نعرہ لگانے والی حکومت نے بجٹ سے پہلے ہی منی بجٹ دے دیا ہے جسکا واضع ثبوت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم جولائی سے قبل ہوشربا اضافہ ہے اس سے یہ بات اب عیاں ہوگئی ہے کہ حکومت چاہتی ہی نہیں کہ معیشت چلے اور عوام کاچولہا جلے،ٹیکس وصولیوں میں بدترین ناکامی، تاریخی بلند ترین قرضے، تباہ حال معیشت،ترقی کی شرح منفی،بھوک،بیروزگاری اور بیماری کیا یہ ہے عمران خان کا نیا پاکستان غریب عوام کا سوال،عوامی حلقوں اورغریبوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ فی الفور واپس لے،اس مشکل وقت میں یہ موقع غریب قوم کی جیبیں صاف کرنے کا نہیں، عوام کی جیبیں بھرنے کا ہے،ٹیکس وصولیوں میں ناکامی، بدترین معاشی کارکردگی کا بدلہ عوام سے پٹرولیم کی سفاکانہ قیمتوں میں اضافے سے نہ لیاجائے عوام اس ظلم کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے اورپارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر ظالمانہ فیصلہ کی واپسی کی جدوجہد کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں